World
ریان ایئر طیارہ حادثہ: انجن کا پرزہ ٹوٹنے سے مسافر کا سر باہر نکل گیا
ایک ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یونان سے جرمنی جانے والی ریان ایئر کی پرواز کے دوران انجن کا پنکھا ٹوٹنے سے ونڈو کو نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے نتیجے میں طیارے کی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا تھا جس سے ایک مسافر کا سر باہر نکلنے کا انتہائی خطرناک واقعہ پیش آیا۔
ایک تشویشناک واقعے کے بعد جاری ہونے والی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ریان ایئر کی ایک پرواز کے دوران پیش آنے والے حادثے کی بنیادی وجہ طیارے کے انجن کا ایک پنکھا (فین بلیڈ) ٹوٹنا تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ ماہ یونان سے جرمنی جانے والی پرواز کے دوران پیش آیا تھا، جس نے پوری دنیا کی ایوی ایشن انڈسٹری اور مسافروں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکی تفتیش کاروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق انجن کا پرزہ ٹوٹنے کے بعد انتہائی زوردار طریقے سے طیارے کی باڈی سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں کھڑکی کا شیشہ بری طرح ٹوٹ گیا۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق انجن کا ٹوٹا ہوا حصہ اتنی تیزی سے اڑا کہ اس نے مسافروں کی کھڑکی کو نشانہ بنایا، جس سے وہاں موجود ایک مسافر کا سر کھڑکی سے باہر نکل گیا تھا۔ یہ واقعہ یقیناً طیارے میں موجود دیگر مسافروں کے لیے ایک خوفناک تجربہ تھا، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں بڑی انسانی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ انجن کے پرزوں کا اس طرح ٹوٹنا ایک انتہائی نایاب مگر سنگین تکنیکی نقص ہے، جس کی مزید جانچ کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
فی الحال ایئر لائن انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس واقعے کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انجن کے بلیڈ کی دھات میں تھکاوٹ یا مینوفیکچرنگ کے دوران کوئی خامی اس حادثے کا سبب بنی ہو سکتی ہے۔ پرواز کے دوران پیش آنے والے اس تکنیکی نقص نے طیاروں کے حفاظتی نظام اور انجن کی جانچ پڑتال کے عمل پر دوبارہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ریان ایئر کی جانب سے تاحال باضابطہ طور پر اس واقعے پر مکمل تحقیقات مکمل ہونے تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اس واقعے کے بعد اب عالمی ہوائی کمپنیوں کے لیے اپنے انجنوں کی مینٹیننس کے معیارات کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایوی ایشن کے عالمی ادارے اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ انجن کے پرزوں کی جانچ کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے بڑھایا جائے۔ یہ رپورٹ اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ فضا میں موجود طیاروں کی حفاظت کے لیے ایک چھوٹا سا پرزہ بھی کتنی بڑی تباہی لا سکتا ہے۔