LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی سوشل میڈیا سروس: میڈیا گروپس کا اہم قانونی اقدام

News Image
دی انٹرسیپٹ اور فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا سروس کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمے کا مقصد عوامی سوشل میڈیا پوسٹس تک رسائی کو ادائیگی سے مشروط کرنے کے اقدام کو روکنا ہے۔
امریکی میڈیا کی ممتاز تنظیم 'دی انٹرسیپٹ' اور غیر منافع بخش ادارہ 'فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن' نے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف ایک اہم قانونی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا سروس کے ان اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے جن کے تحت عوامی نوعیت کی سوشل میڈیا پوسٹس تک رسائی کو پیسوں سے مشروط کیا جا رہا ہے۔ مدعی تنظیموں کا موقف ہے کہ عوامی عہدیداروں کی جانب سے جاری کردہ معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اسے تجارتی مقاصد کے لیے محدود کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ قانونی دستاویزات کے مطابق، ٹرمپ کی سوشل میڈیا سروس کے ذریعے ڈیٹا کو مونیٹائز کرنے کا عمل نہ صرف شفافیت کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ یہ صحافتی آزادی پر بھی قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ شکایت کنندگان کا استدلال ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اب معلومات کی ترسیل کا اہم ترین ذریعہ بن چکے ہیں، اور اگر عوامی پوسٹس کو کسی پے وال یا فیس کے پیچھے چھپایا گیا تو اس سے عوام تک بروقت اور درست معلومات پہنچانے میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ اس قانونی لڑائی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کیا کوئی سوشل میڈیا کمپنی عوامی مفاد کی حامل پوسٹس کو صرف منافع کمانے کے لیے عام لوگوں کی پہنچ سے دور کر سکتی ہے یا نہیں۔ عدالتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مقدمہ مستقبل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر بن سکتا ہے۔ اگر عدالت اس مقدمے میں میڈیا تنظیموں کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو یہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے بزنس ماڈل پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے ابھی تک اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کی ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ فی الحال یہ معاملہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور عوامی حلقے اس کے نتائج کے منتظر ہیں۔