LIVE
Loading Breaking News...

سلیکون ویفر پروڈکشن میں روسی اسٹارٹ اپ کی نئی ٹیکنالوجی

News Image
ایک روسی اسٹارٹ اپ نے سلیکون ویفرز کی تیاری کے عمل کو دو ہفتوں سے کم کر کے صرف پانچ منٹ تک لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل لیتھوگرافی مشین کی تیاری میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔
سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں اس وقت ایک غیر معمولی بحث کا آغاز ہوا ہے جب روس کے ایک اسٹارٹ اپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ سلیکون ویفرز کی تیاری کے عمل کو انقلابی انداز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عام طور پر سلیکون ویفرز کی تیاری کا عمل انتہائی پیچیدہ اور طویل ہوتا ہے جس میں دو ہفتوں تک کا وقت لگ سکتا ہے، لیکن اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ عمل محض پانچ منٹ میں مکمل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس دعوے نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے، خاص طور پر ان حلقوں میں جہاں چپس کی قلت اور پیداواری لاگت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس روسی کمپنی نے ملٹی کیتھوڈ ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے جو الیکٹران بیم کے ذریعے کام کرتی ہے۔ اگرچہ تجرباتی سطح پر کچھ کامیابیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کے ماہرین اور انڈسٹری کے بڑے ناموں کا ماننا ہے کہ اسے کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کے لیے ابھی بہت طویل فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے درکار مکمل لیتھوگرافی مشین کی تیاری ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے، اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں آنے میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب دنیا کے معروف تحقیقی مراکز جیسے IMEC، جو سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں، اس نئی پیش رفت کو فی الحال براہ راست خطرہ نہیں مان رہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ صرف ایک حصے کی بہتری سے پوری مینوفیکچرنگ چین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی سطح پر چپس بنانے والی بڑی کمپنیاں اپنی موجودہ ٹیکنالوجی میں اربوں ڈالر لگا چکی ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی نئی اور غیر ثابت شدہ ٹیکنالوجی کو اپنانا ایک بڑا رسک ہے۔ تاہم، یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی صنعت اب روایتی طریقوں سے آگے بڑھنے کے لیے نئے تجربات کی طرف دیکھ رہی ہے۔ حتمی تجزیے کے مطابق، اگر روسی کمپنی کا یہ دعویٰ عملی جامہ پہن لیتا ہے تو یہ یقیناً ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہو گی۔ سلیکون ویفرز کی پیداواری رفتار میں اضافہ عالمی سپلائی چین کو بہتر بنا سکتا ہے اور الیکٹرانک آلات کی قیمتوں میں کمی لا سکتا ہے۔ لیکن فی الحال، یہ صرف ایک تکنیکی دعویٰ ہے جس کی تصدیق اور بڑے پیمانے پر عمل درآمد کے لیے مزید ٹھوس ثبوت اور برسوں کی تحقیق درکار ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اب اس روسی اسٹارٹ اپ کے اگلے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔