LIVE
Loading Breaking News...

افریقی تجارت میں نائجیریا کے کسٹمز ماڈرنائزیشن منصوبے کو عالمی پذیرائی

News Image
صدر بولا ٹینوبو نے افریقی آزاد تجارتی علاقے کی جانب سے نائجیریا کے کسٹمز جدید کاری کے منصوبے کو تسلیم کرنے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ اقدام افریقی براعظم میں تجارتی سہولت کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اقتصادی ترقی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
نائجیریا کے صدر بولا ٹینوبو نے 'افریقی کانٹی نینٹل فری ٹریڈ ایریا' (AfCFTA) کی جانب سے نائجیریا کے 'کسٹمز جدید کاری پروجیکٹ' کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے اور اس کی تعریف کرنے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹینوبو کا ماننا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف نائجیریا کی داخلی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ یہ پورے براعظم افریقہ میں تجارتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک کلیدی نمونہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجی اور جدید کسٹمز نظام کا استعمال براعظم میں تجارت کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت نائجیریا کے مطابق، یہ جدید پروجیکٹ کسٹمز کے عمل کو ڈیجیٹل اور خودکار بناتا ہے، جس سے سرحدوں پر کلیئرنس کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ صدر ٹینوبو نے زور دیا کہ افریقی ممالک کو اپنی معاشی خودمختاری کے لیے ایسی ٹیکنالوجی اور حل پر توجہ دینی چاہیے جو خاص طور پر افریقی خطے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہوں۔ AfCFTA کی جانب سے اس پروجیکٹ کی توثیق اس بات کا ثبوت ہے کہ نائجیریا کی حکمت عملی درست سمت میں گامزن ہے اور اسے دیگر افریقی ممالک کے لیے بطور مثال استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جدید کاری کا عمل سرحد پار تجارت کی لاگت میں کمی لائے گا، جس سے تاجروں کو درپیش طویل انتظار اور پیچیدہ کاغذی کارروائی سے نجات ملے گی۔ اس منصوبے کے تحت کسٹمز کے نظام میں ٹیکنالوجی کے انضمام سے محصولات کی وصولی میں شفافیت آئے گی اور غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ صدر ٹینوبو کی انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے کسٹمز کے امور کو جدید بنانا افریقہ کے آزاد تجارتی معاہدے (AfCFTA) کے طویل مدتی مقاصد کے حصول کے لیے بنیادی شرط ہے۔ آخر میں، صدر ٹینوبو نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس کامیابی کو مزید وسعت دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تکنیکی جدید کاری کا عمل نائجیریا کی سرحدوں کے علاوہ پورے خطے میں افریقی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بنے۔ یہ پیش رفت افریقی تجارت کے نئے دور کا آغاز ہے، جہاں ٹیکنالوجی اور تعاون باہمی کے ذریعے براعظم کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم کیا گیا ہے۔