LIVE
Loading Breaking News...

ٹروتھ سوشل سبسکرپشن تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف نیا مقدمہ درج

News Image
میڈیا گروپس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر پریمیم سبسکرپشن کے ذریعے تیز تر رسائی کی پیشکش کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ یہ عمل معلومات تک مساوی رسائی کے اصولوں اور میڈیا کی آزادی کے منافی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نئے قانونی چیلنج کا سامنا ہے جہاں میڈیا گروپس نے ان کی ملکیتی سوشل میڈیا ایپ 'ٹروتھ سوشل' پر ایک متنازع سبسکرپشن ماڈل کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس مقدمے کا مرکزی نقطہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعارف کرایا گیا ایک ایسا پیکج ہے جس میں سبسکرائبرز ماہانہ ایک لاکھ ڈالر کی بھاری رقم ادا کرکے ان کے سوشل میڈیا اعلانات تک عام لوگوں کے مقابلے میں تیز تر رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن سمیت دیگر میڈیا تنظیموں نے بدھ کے روز وفاقی عدالت میں اس معاملے پر باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ عوامی دلچسپی کے حامل بیانات اور سیاسی اعلانات تک رسائی کو پیسوں سے مشروط کرنا شفافیت کے اصولوں کے برعکس ہے۔ ان میڈیا گروپس کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معلومات کی آزادانہ ترسیل اور صحافتی آزادی کے عمل کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ اس سے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جا رہا ہے جو دیگر عام صارفین اور میڈیا اداروں کے مقابلے میں معلومات تک پہلے رسائی رکھتا ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹرمپ کا یہ کاروباری ماڈل معلومات کی منصفانہ تقسیم کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے اس مقدمے پر فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہونے کے ناطے وہ اپنے کاروباری فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ امریکی سیاست اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ضابطہ اخلاق پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عدالت اب یہ دیکھے گی کہ آیا سیاسی شخصیات کا اپنی سوشل میڈیا موجودگی کو مالی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرنا عوامی مفاد کے قانون کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔