LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی کیمروں اور فیشل ریکگنیشن سے بچنے کے لیے جدید لباس

News Image
حال ہی میں ڈیف کان کانفرنس میں ایک ایسی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں خاص ڈیزائن کردہ کپڑوں کے ذریعے اے آئی کیمروں کی شناخت سے بچنے کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے مکمل طور پر کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ترین کیمرہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہر طرف چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) کے نظام موجود ہیں، وہیں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے بھی نئے طریقے وضع کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں لاس ویگاس میں منعقدہ مشہور زمانہ 'ڈیف کان' (Defcon) ہیکنگ کانفرنس میں ایک ایسا دلچسپ تجربہ کیا گیا جس نے ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک محقق نے ایسا منفرد پرنٹ ڈیزائن کیا جو اے آئی کیمروں کی ڈیٹیکشن تھریش ہولڈ کو نیچا دکھانے میں کامیاب رہا۔ اس ٹیکنالوجی کے پیچھے بنیادی مقصد یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حامل کیمرے انسان کو پہچاننے میں ناکام ہو جائیں۔ اب اس تحقیق کے خالق اپنے منفرد پیٹرن کو عام شرٹس اور ہڈیز پر منتقل کر رہے ہیں تاکہ اسے روزمرہ زندگی میں استعمال کیا جا سکے۔ یہ لباس اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ ان پر بنے عجیب و غریب پرنٹ کیمرے کے سافٹ ویئر کو الجھا دیتے ہیں، جس سے اے آئی یہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہتا ہے کہ سامنے آنے والی چیز کوئی انسان ہے یا محض کوئی بے جان شے ہے۔ تاہم، ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ کیا یہ کپڑے حقیقی دنیا کے پیچیدہ حالات اور مختلف روشنیوں میں مکمل طور پر موثر ثابت ہوں گے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایجاد ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن ابھی اسے ایک مکمل 'سیکیورٹی سلوشن' قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انسانی لباس کا چلنا پھرنا، مڑنا اور کپڑے پر پڑنے والی سلوٹیں کیمرے کے سافٹ ویئر کو دھوکہ دینے کی صلاحیت کو محدود کر سکتی ہیں۔ کپڑے پہن کر فیشل ریکگنیشن سے بچنے کا ٹیسٹ ابھی تک ایک بڑا غیر آزمودہ چیلنج ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ 'اینٹی فیشل ریکگنیشن' ملبوسات مارکیٹ میں مقبول ہوتے ہیں اور کیا یہ واقعی لوگوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ میں کوئی عملی کردار ادا کر سکیں گے۔