LIVE
Loading Breaking News...

آئی ٹی ٹیچر امتحانات میں دھاندلی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

News Image
برطانیہ میں ایک آئی ٹی ٹیچر کو امتحانات کے دوران اپنے شاگردوں کا تعلیمی کام خفیہ طور پر تبدیل کرنے اور خود سے تخلیق کرنے کے جرم میں تدریس سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ حکام نے واقعے کے بعد تحقیقات مکمل کر کے استاد کو پیشہ ورانہ بددیانتی کا مرتکب قرار دیا ہے۔
ایک نجی تعلیمی ادارے میں آئی ٹی کے استاد سائی کرشنن سنتوش کمار کو اس وقت شدید کارروائی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ امتحانات کے دوران اپنے طلبا کے کورس ورک میں مبینہ طور پر ردوبدل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ 36 سالہ سائی کرشنن، جو کہ آئی ٹی کے مضمون میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے، پر یہ الزام ثابت ہوا کہ انہوں نے امتحانات کے عین درمیان طلبا کی محنت کو بدلنے یا خود سے نیا مواد تخلیق کرنے کی کوشش کی۔ اس حرکت نے تعلیمی دیانت داری کے اصولوں کو بری طرح پامال کیا اور انتظامیہ کو ان کے خلاف سخت فیصلہ لینے پر مجبور کیا۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق، حکام کو ٹیچر کی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد نگرانی کا نظام سخت کر دیا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ مذکورہ استاد نے نہ صرف طلبا کے تیار کردہ پروجیکٹس میں ترامیم کیں بلکہ بعض جگہوں پر خود سے مواد شامل کرنے کی کوشش بھی کی تاکہ طلبا کے گریڈز کو بہتر دکھایا جا سکے۔ یہ عمل امتحانی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ شفافیت کو یقینی بنائیں نہ کہ خود تعلیمی عمل میں مداخلت کریں۔ تعلیمی ٹربیونل نے اس معاملے کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ استاد کا رویہ پیشہ ورانہ اقدار کے منافی تھا اور اس سے نہ صرف طلبا کی قابلیت پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ پورے تعلیمی ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ ٹربیونل کے فیصلے کے بعد انہیں مستقل طور پر تدریس کے شعبے سے خارج کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اب کسی بھی تعلیمی ادارے میں دوبارہ پڑھانے کے اہل نہیں رہیں گے۔ اس واقعے کے بعد تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں آئی ٹی کے اساتذہ کی اہمیت بڑھ گئی ہے، وہیں ان کی اخلاقی ذمہ داری بھی دوچند ہو گئی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ طلبا کی محنت کی چوری یا ان کے نتائج میں ہیر پھیر کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے، اور اس طرح کے اقدامات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔