LIVE
Loading Breaking News...

جاپان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال اور کاروباری مشکلات

News Image
جاپان کی بڑی کارپوریٹ کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تذبذب کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ محدود ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملازمین کی جانب سے اے آئی کے استعمال میں عدم دلچسپی جاپانی کاروباری کلچر کا ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا انقلاب برپا ہے، لیکن حیران کن طور پر جاپان جیسی جدید معیشت میں کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں غیر معمولی سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اگرچہ جاپان کی کئی بڑی کاروباری تنظیموں نے اے آئی ٹولز میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کمپنیوں کے اندر اس ٹیکنالوجی کا استعمال ابھی بھی انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان بڑے اداروں میں کام کرنے والے عملے کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہی اے آئی کو اپنے روزمرہ کے امور میں استعمال کر رہا ہے، اور وہ بھی بہت محدود پیمانے پر۔ اس سست روی کے پیچھے کارپوریٹ کلچر کے ساتھ جڑے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاپان میں کام کرنے کا روایتی انداز اور غلطیوں کے خوف سے احتراز کی روایت، نئی ٹیکنالوجیز کے فوری اپنانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پروفیسر یاسوشی کا کہنا ہے کہ ملازمین کے اندر اے آئی ٹولز کے استعمال کے حوالے سے ایک عجیب سا تذبذب پایا جاتا ہے۔ وہ اس ٹیکنالوجی کو اپنے کام کے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے صرف ایک 'اضافی کام' کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے لیے انہیں اپنی روایتی ورکنگ روٹین تبدیل کرنی پڑے گی۔ مزید برآں، جاپانی کمپنیوں کے اندر ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے سخت ضوابط بھی اس عمل میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ کمپنیاں اپنے اندرونی ڈیٹا کو کلاؤڈ بیسڈ اے آئی ماڈلز کے ساتھ شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔ یہ خدشات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا نفاذ بہت سست رفتار سے ہو۔ جب تک جاپانی کمپنیاں اے آئی کو صرف ایک فیشن کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے کاروباری پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بنیادی آلے کے طور پر قبول نہیں کرتیں، تب تک اس شعبے میں بڑی تبدیلی کی توقع کرنا مشکل ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کا کامیاب نفاذ صرف سافٹ ویئر خریدنے تک محدود نہیں بلکہ یہ تنظیموں کی ثقافتی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ جاپان کو اپنی افرادی قوت کو دوبارہ تربیت دینے اور ایسے ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جہاں تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ اے آئی کا بہتر استعمال کیا جا سکے۔ اگر جاپانی کمپنیاں اس سست روی کو ختم نہیں کر پاتیں تو ممکن ہے کہ وہ عالمی مسابقت میں اپنے حریفوں سے بہت پیچھے رہ جائیں گی۔