Technology
سورج گرہن کے چشموں کو ضائع نہ کریں: بہترین طریقے
سورج گرہن کے مشاہدے کے لیے استعمال ہونے والے خصوصی چشموں کو ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال یا عطیہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چشموں کے لینز کو ری سائیکل کرنا مشکل ہے اس لیے ان کا درست استعمال ضروری ہے۔
حال ہی میں گزرنے والے سورج گرہن کے دوران کروڑوں لوگوں نے اسے براہِ راست دیکھنے کے لیے خصوصی 'سولر ایکلپس گلاسز' کا استعمال کیا۔ تاہم، گرہن ختم ہونے کے بعد اب بہت سے لوگ اس تذبذب کا شکار ہیں کہ ان خصوصی چشموں کا کیا کیا جائے۔ چونکہ ان چشموں کے لینز ایک خاص مواد سے بنے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں عام پلاسٹک کی طرح ری سائیکلنگ کے عمل میں شامل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے، اور انہیں عام کوڑے دان میں پھینکنا ماحول کے لیے سودمند نہیں ہے۔
ماہرینِ فلکیات اور ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ ان چشموں کو ضائع کرنے کے بجائے تین متبادل طریقوں پر غور کیا جائے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ کے چشمے اچھی حالت میں ہیں، تو آپ انہیں محفوظ کر کے آئندہ آنے والے سورج گرہن کے لیے رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ انہیں سنبھال کر رکھیں تو یہ برسوں تک قابلِ استعمال رہ سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے لینز پر کوئی خراش یا کٹ نہ لگا ہو۔ یہ ایک ماحول دوست عمل ہے جو نئی خریداری کی ضرورت کو ختم کرتا ہے۔
دوسرا اہم مشورہ ان چشموں کو ضرورت مند تعلیمی اداروں یا فلکیاتی سوسائٹیز کو عطیہ کرنا ہے۔ دنیا بھر میں کئی ایسی تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو ان چشموں کو اکٹھا کرتی ہیں اور انہیں ایسے ممالک میں بھیجتی ہیں جہاں مستقبل قریب میں سورج گرہن ہونے والا ہے لیکن وہاں کے طلباء یا عام شہریوں کے پاس یہ سہولت میسر نہیں ہوتی۔ اس طرح آپ کا ایک چھوٹا سا عمل کسی دوسرے شخص کی سائنسی معلومات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
آخری آپشن کے طور پر، اگر آپ کو انہیں تلف کرنا ہی ہے تو اس سے قبل لینز کو فریم سے الگ کر لیں۔ پلاسٹک کے فریم کو عام پلاسٹک ری سائیکلنگ بن میں ڈالا جا سکتا ہے، جبکہ لینز کے حصے کو ٹھوس کچرے کے طور پر تلف کیا جائے۔ تاہم، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہر بار چشمہ استعمال کرنے سے پہلے اس کی جانچ ضرور کریں کہ آیا اس کی سطح پر کوئی روشنی کا سوراخ تو نہیں بن گیا، کیونکہ ایک معمولی سی خراش بھی براہ راست سورج کو دیکھنے کے لیے اسے غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔