World
امریکی بحری ناکہ بندی کا اعلان: پینٹاگون کا ایران کے خلاف سخت موقف
امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی کے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
پینٹاگون کے سربراہ نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ اقدام خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک تزویراتی ضرورت کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحری بیڑے خطے میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی قسم کے غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل لائحہ عمل موجود ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو اس کے ایران کی معیشت اور خطے کی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری اس پیشرفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ اس سے عالمی سمندری راستوں پر ٹریفک کی نقل و حمل اور تیل کی ترسیل کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
تہران کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں ایران نے اس طرح کے اقدامات کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ امریکی بیان دراصل ایران پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہے تاکہ اسے خطے میں اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ واشنگٹن کا یہ موقف کہ وہ لامحدود مدت تک دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے، اس بات کا غماز ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانے کے لیے عسکری ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
مستقبل میں یہ صورتحال کس رخ پر مڑتی ہے، اس کا انحصار سفارتی کوششوں اور عالمی طاقتوں کے کردار پر ہوگا۔ فی الحال، خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں امریکی بحری موجودگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطے میں عسکری چوکسی میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اس صورتحال کو ایک خطرناک موڑ قرار دے رہا ہے جہاں معمولی سی غلطی بھی بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔