Technology
نیوزی لینڈ: طبیعیات کے نئے نصاب پر ٹیکنالوجی ماہرین کو شدید تشویش
نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کے اعلانات کے باوجود ماہرین نے نئے مجوزہ طبیعیات کے نصاب پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ نصاب ملک کے سائنسی اور تحقیقی اہداف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
نیوزی لینڈ کی حکومت کی جانب سے ملک کو ایک ہائی ٹیک اور جدید سائنسی مرکز بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک سالانہ 120 ملین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کرے گی تاکہ سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی لائی جا سکے۔ اس حکومتی عزم کا مقصد ملک کی معیشت کو ڈیجیٹل اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے، جس کے لیے حکومت نے کئی اہم منصوبوں کی منظوری بھی دی ہے۔ تاہم، اس خوش آئند اعلان کے ساتھ ہی ملک میں تعلیمی حلقوں اور خاص طور پر طبیعیات (Physics) کے ماہرین کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تنازع کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ طبیعیات کا نیا مجوزہ نصاب ہے۔ ماہرین تعلیم اور یونیورسٹی کے پروفیسروں کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ نصاب بنیادی سائنسی تصورات کو کمزور کر رہا ہے اور طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے لیے درکار ضروری مہارتیں فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ ناقدین کے مطابق، اگر اس نصاب کو اسی شکل میں نافذ کیا گیا تو نیوزی لینڈ کے طلبا بین الاقوامی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے مقابلے میں پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ صورتحال اس وقت زیادہ تشویشناک ہو جاتی ہے جب حکومت خود سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھا کر نئی نسل کو اس جانب راغب کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں کامیابی کے لیے مضبوط بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے، جسے موجودہ نصابی تبدیلیوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بہت سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر نصاب میں طبیعیات کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا تو مستقبل کے انجینئرز اور سائنسدانوں کی تیاری کا معیار بری طرح متاثر ہوگا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس نصاب پر نظر ثانی کرے اور سائنسی ماہرین کو مشاورت کے عمل میں شامل کرے۔
آخر میں، نیوزی لینڈ کی حکومت کے سامنے اب ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی پالیسی اور تعلیمی اصلاحات کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔ ایک طرف حکومت کا خواب ہے کہ ملک ایک بڑا ریسرچ ہب بنے، جبکہ دوسری طرف تعلیمی نصاب میں کی جانے والی تبدیلیاں اس خواب کی تکمیل میں رکاوٹ بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ مستقبل کے معماروں کی تعلیم کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے بجائے ایسی پالیسی اپنائی جائے جو نیوزی لینڈ کو واقعی ایک عالمی سطح کا ٹیکنالوجی مرکز بنا سکے۔