Business
ٹارگٹ کا بڑا قدم: اے آئی ایگزیکٹو کی تقرری اور حصص پر اثرات
امریکی ریٹیل کمپنی ٹارگٹ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے پہلی بار اے آئی ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے اور کسٹمر کے تجربے کو جدید بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
امریکی ریٹیل مارکیٹ کے معروف ادارے 'ٹارگٹ' نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل عبور کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنا پہلا باقاعدہ ایگزیکٹو مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کاروباری ادارے اپنی کارکردگی کو بڑھانے اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر تیزی سے انحصار کر رہے ہیں۔ اس تقرری کا مقصد نہ صرف ٹارگٹ کے اندرونی کاروباری نظام کو جدید بنانا ہے بلکہ کمپنی کی ڈیجیٹل حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنا بھی ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت پر ہونے والے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال 2026 تک اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم 2.59 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 47 فیصد زیادہ ہے۔ اس بھاری سرمایہ کاری کا بڑا حصہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنیوں اور تکنیکی وینڈرز کی طرف سے آ رہا ہے، تاہم اب ریٹیل کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں۔ ٹارگٹ کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کے کاروبار میں اے آئی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔
اس تقرری کے بعد سرمایہ کاروں کی نظریں 'ٹی جی ٹی' (TGT) اسٹاک پر مرکوز ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹارگٹ کا یہ فیصلہ طویل مدتی بنیادوں پر کمپنی کے حصص کی قدر میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ جب کوئی کمپنی اپنے بنیادی ڈھانچے میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرتی ہے، تو اس سے سپلائی چین کی بہتری، انوینٹری مینجمنٹ اور کسٹمرز کے خریداری کے رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ تمام عوامل براہ راست کمپنی کے منافع کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ٹارگٹ کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف کمپنی کی جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ ریٹیل سیکٹر کے دیگر اداروں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید ترقی کر رہی ہے، ٹارگٹ جیسی کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے آپریشنز میں اے آئی کے ماہرین کی خدمات حاصل کریں تاکہ مسابقتی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس نئی تقرری کے بعد کمپنی کی مصنوعات اور سروسز میں کیا عملی تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔