LIVE
Loading Breaking News...

کسٹمز میں اصلاحات: سینیٹ کی جانب سے عدیوالے عدینی کی خدمات کا اعتراف

News Image
سینیٹ کی کمیٹی برائے کسٹمز اینڈ ایکسائز نے چیئرمین عدیوالے عدینی کی قیادت میں جاری کسٹم اصلاحات کو سراہتے ہوئے ان کے اقدامات کو ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور شفافیت کے فروغ پر خاص طور پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹ کی کمیٹی برائے کسٹمز اینڈ ایکسائز نے کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں چیئرمین عدیوالے عدینی کی قیادت میں جاری اصلاحاتی عمل پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ عدینی کی سربراہی میں کسٹمز کے محکمے نے جو انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں، ان سے نہ صرف محکمے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ ریونیو کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملی ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ کسٹمز میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو جس طرح فروغ دیا گیا ہے، اس سے کرپشن کے امکانات کم ہوئے ہیں اور کام میں شفافیت پیدا ہوئی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں کی گئی سرمایہ کاری اب رنگ لا رہی ہے اور پورٹس اور دیگر سرحدی مقامات پر مال برداری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے سے تاجر برادری کو بڑی سہولت ملی ہے۔ چیئرمین عدیوالے عدینی کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے سینیٹ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اسی تسلسل کے ساتھ اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ کسٹمز کے شعبے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق جدید تر بنایا جا سکے۔ سینیٹ کمیٹی نے مزید کہا کہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا موازنہ پچھلے برسوں سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے، جس کا سہرا موجودہ قیادت کے وژن کو جاتا ہے۔ مزید برآں، کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسٹمز کے عملے کی تربیت اور انہیں جدید آلات کی فراہمی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چیئرمین عدینی نے اس موقع پر کمیٹی کو یقین دلایا کہ ان کی پوری توجہ کسٹمز کے نظام کو مزید خودکار اور عوام دوست بنانے پر مرکوز ہے تاکہ ملک میں تجارت کو فروغ مل سکے۔ حکومتی سطح پر بھی ان اصلاحات کو سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ اقدامات ملکی خزانے میں اضافے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کسٹمز کی ہر اس اصلاحاتی کوشش کی حمایت جاری رکھے گی جس سے ملک میں قانون کی بالادستی اور معاشی استحکام ممکن ہو سکے۔