LIVE
Loading Breaking News...

گوگل پکسل واچ 5: صحت کی نگرانی کا جدید فیچر اور ایپل کے لیے چیلنج

News Image
گوگل نے اپنی نئی پکسل واچ 5 میں انسولین ریزسٹنس کی پیش گوئی کرنے والا انقلابی فیچر متعارف کروا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل کو اپنی اسمارٹ واچ میں ایسی ہی جدید طبی ٹیکنالوجی شامل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
گوگل نے حال ہی میں منعقد ہونے والی اپنی سالانہ ایونٹ 'میڈ بائے گوگل' میں نئی پکسل واچ 5 متعارف کرائی ہے، جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس نئی واچ میں شامل سب سے اہم اور انقلابی فیچر انسولین ریزسٹنس (Insulin Resistance) کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صارفین کو ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات سے پہلے ہی آگاہ کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جو پہننے کے قابل ٹیکنالوجی (Wearable Technology) کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیچر نے سمارٹ واچز کو محض ورزش ٹریک کرنے والے آلات سے نکال کر ایک فعال طبی معاون بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں اکثر گوگل پر ایپل کی نقل کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، تاہم اس بار پکسل واچ 5 کا یہ جدید فیچر ایپل واچ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایپل واچ، جو طویل عرصے سے سمارٹ واچ مارکیٹ میں سب سے آگے سمجھی جاتی ہے، اب تک انسولین کی سطح یا اس سے متعلقہ میٹابولک تبدیلیوں کی پیش گوئی کرنے میں گوگل کی اس نئی ایجاد سے پیچھے نظر آتی ہے۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ ایپل کو اپنی اگلی سیریز میں اسی طرح کے جدید سینسرز اور الگورتھمز متعارف کروانے چاہئیں تاکہ صارفین کی صحت کی مکمل نگرانی ممکن ہو سکے۔ اس نئی پیشرفت کا ایک اور اہم پہلو ڈیٹا کی درستگی ہے۔ گوگل کا دعویٰ ہے کہ پکسل واچ 5 میں استعمال ہونے والے جدید سینسرز انسانی جسم کے درجہ حرارت اور پسینے کے کیمیائی تجزیے کی مدد سے خون میں شوگر کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن طبی ماہرین اسے ایک خوش آئند قدم قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ ٹیکنالوجی لاکھوں ایسے لوگوں کے لیے زندگی بچانے والی ثابت ہو سکتی ہے جو خاموش بیماریوں کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر پکسل واچ 5 نے نہ صرف گوگل کے لیے مارکیٹ میں ایک مضبوط پوزیشن بنائی ہے بلکہ سمارٹ واچ کی صنعت میں صحت پر مبنی ٹیکنالوجی کا ایک نیا معیار بھی قائم کر دیا ہے۔ اب تمام تر نظریں ایپل پر مرکوز ہیں کہ وہ اس مقابلے میں خود کو کیسے برقرار رکھتی ہے اور کیا وہ مستقبل قریب میں اپنی واچ میں ایسی ہی کوئی جدید سہولت متعارف کرائے گی یا نہیں۔ یہ مقابلہ صارفین کے لیے تو یقیناً فائدہ مند ہے کیونکہ انہیں تیزی سے بہتر اور زیادہ محفوظ ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔