LIVE
Loading Breaking News...

پالو آلٹو نیٹ ورکس اور اوپن اے آئی کی اشتراک سے سائبر سیکیورٹی میں نیا انقلاب

News Image
پالو آلٹو نیٹ ورکس نے اوپن اے آئی کے جدید سائبر ماڈلز کو اپنے کلائنٹس کے نجی نیٹ ورکس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔
عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والی معروف کمپنی 'پالو آلٹو نیٹ ورکس' نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس کی ذیلی تنظیم 'یونٹ 42' اب اوپن اے آئی (OpenAI) گروپ کے جدید ترین سائبر سیکیورٹی ماڈلز کو براہ راست صارفین کے نیٹ ورک ماحول کے اندر استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرے گی۔ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے رواں سال کے شروع میں شروع کی گئی اس سروس کا توسیع شدہ حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس حملہ آوروں کے طریقہ کار اور ان کے حملوں کے راستوں کو پہچاننا اور انہیں ناکام بنانا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کمپنیاں اپنے اندرونی نیٹ ورک پر آنے والے ممکنہ خطرات کا پہلے سے اندازہ لگا سکیں گی۔ اوپن اے آئی کے ماڈلز کو مقامی ماحول میں لاگو کرنے سے نہ صرف ڈیٹا کی پرائیویسی کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ یہ ماڈلز اس قابل ہوں گے کہ وہ پیچیدہ سائبر حملوں کی باریکیوں کو سمجھ کر سیکیورٹی ٹیموں کو الرٹ جاری کر سکیں۔ پالو آلٹو نیٹ ورکس کا ماننا ہے کہ اے آئی کے بغیر موجودہ دور کے جدید سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، اس لیے یہ اشتراک انڈسٹری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یونٹ 42 کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملہ آور اب اپنی کارروائیوں میں اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے روایتی سیکیورٹی اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اوپن اے آئی کے فرنٹیر ماڈلز کو کسٹمر نیٹ ورکس کے اندر ضم کرنے سے، دفاعی نظام زیادہ متحرک اور ذہین ہو جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی خود کار طریقے سے خطرات کی نشاندہی کرے گی اور ان کے خلاف فوری جوابی اقدامات تجویز کرے گی، جس سے انسانی غلطی کے امکانات کم ہو جائیں گے اور سیکیورٹی آپریشنز میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ پیشرفت سائبر سیکیورٹی کی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں دفاعی حکمت عملیوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا کردار مرکزی ہو گیا ہے۔ پالو آلٹو نیٹ ورکس اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنے کلائنٹس تک پہنچا کر نہ صرف مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آنے والے وقتوں میں، امید کی جا رہی ہے کہ یہ ماڈلز مزید خود مختار ہو کر نیٹ ورکس کی حفاظت کریں گے جس سے سائبر کرائم کی شرح میں کمی متوقع ہے۔