LIVE
Loading Breaking News...

الیکٹرک گاڑیوں کی رینج اینگزائٹی: ٹرمپ کا موقف اور جدید حل

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی رینج اور چارجنگ سے متعلق خدشات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے 'رینج اینگزائٹی' یا بیٹری ختم ہونے کے خوف کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ سیاسی حلقوں میں ٹرمپ کے بیانات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کی رینج کا محدود ہونا اور طویل سفر کے دوران چارجنگ اسٹیشنز کی کمی واقعی صارفین کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایک خراب گھڑی بھی دن میں دو بار درست وقت بتاتی ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی تنقید میں کچھ حقیقت پسندی موجود ہے جس پر آٹو انڈسٹری کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 'رینج اینگزائٹی' دراصل اس خوف کا نام ہے کہ ڈرائیور کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں گاڑی کی بیٹری منزل پر پہنچنے سے پہلے ختم نہ ہو جائے۔ اس مسئلے کا سب سے بڑا حل جدید بیٹری ٹیکنالوجی میں بہتری ہے۔ موجودہ دور میں ایسی بیٹریاں تیار کی جا رہی ہیں جو ایک بار چارج ہونے پر طویل فاصلہ طے کر سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بھی ضرورت ہے۔ ہائی ویز پر تیز رفتار چارجنگ نیٹ ورک کا قیام اور ایسے روڈ سائنز کی تنصیب جو ڈرائیورز کو قریب ترین چارجنگ اسٹیشن کی بروقت معلومات فراہم کر سکیں، اس پریشانی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو عام کرنے کے لیے حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے۔ اگر چارجنگ اسٹیشنز پیٹرول پمپس کی طرح ہر جگہ دستیاب ہوں تو ڈرائیورز کا خوف خود بخود ختم ہو جائے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے اٹھائے گئے نکات درحقیقت صارفین کی ان مشکلات کی عکاسی کرتے ہیں جن کا سامنا عام لوگ روزمرہ زندگی میں کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ہم گاڑی کی ایفیشینسی بڑھانے کے ساتھ ساتھ چارجنگ کے دورانیے کو کم کر دیں، تو الیکٹرک گاڑیاں مستقبل کا ایک بہترین اور محفوظ ذریعہ سفر بن سکتی ہیں۔ آخر میں، یہ کہنا درست ہوگا کہ الیکٹرک گاڑیاں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب لا رہی ہیں، لیکن اس انقلاب کو کامیاب بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ صارف کی نفسیات اور سہولیات کا خیال رکھنا ناگزیر ہے۔ جیسے جیسے بیٹری کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور انفراسٹرکچر بہتر ہوگا، رینج اینگزائٹی جیسے مسائل ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ لہذا، ٹرمپ کی تنقید کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہوئے آٹو انڈسٹری کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو عوام کے لیے مزید قابل اعتبار بنایا جا سکے۔