LIVE
Loading Breaking News...

امریکی طیارہ بردار جہاز کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی

News Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے پیش نظر امریکا نے ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں اپنے دفاعی اثاثوں کو مضبوط کرنا اور اتحادیوں کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کرانا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے دفاعی چیلنجز کے درمیان امریکی محکمہ دفاع نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اور جدید طیارہ بردار بحری جہاز روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے اہم سمندری راستوں پر سیکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کو بہتر بنانا اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدام خطے میں موجود فوجی توازن کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز 'یو ایس ایس ابراہام لنکن' بھی اپنی تعیناتی کے دوران خبروں میں ہے، تاہم اس کی وجہ مشن کے بجائے جہاز پر موجود عملے کے حالات ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی سینیٹرز اور قانون سازوں نے جہاز پر موجود رہائشی اور کام کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس بحری جہاز پر تعینات اہلکاروں کی جانب سے سہولیات کی کمی کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری کو فوجی خاندانوں کے سخت سوالات اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی سینیٹرز نے اس صورتحال پر ایک باقاعدہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جہاز پر موجود عملے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسی ماہ اس جہاز سے ایک سیلر کے سمندر میں گرنے کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کے بعد سے حکام پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی قوت میں اضافہ کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف داخلی سطح پر بحریہ کے اندر موجود انتظامی بحران بھی امریکی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ آپریشنل تیاریوں کے ساتھ ساتھ اپنے اہلکاروں کی صحت اور حفاظتی معیارات پر بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ آنے والے ہفتوں میں خطے کی صورتحال اور امریکی بحری حکمت عملی میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔