Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بحران اور ہرمز آبنائے کی صورتحال
آبنائے ہرمز میں جاری تناؤ اور بحری جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تعطل ختم نہ ہوا تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور بحری جہازوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ گزشتہ پانچ دنوں کی مسلسل بڑھوتری کے بعد اب مارکیٹ میں کچھ سکون دیکھا جا رہا ہے، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ ہرمز کا راستہ، جو عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم شریان کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں ٹریفک کی نقل و حمل بہت کم ہو چکی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
اس تعطل کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششیں تاحال کسی منطقی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، جہاں دونوں جانب سے معاوضے اور شرائط کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں ناکامی اور فوجی تناؤ کے بڑھتے ہوئے خطرات عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بڑے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کا بحران مزید طول پکڑتا ہے، تو توانائی کے ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔
ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر دنیا بھر کے ممالک تیل کے متبادل ذرائع اور ذخائر کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو سپلائی چین میں پیدا ہونے والا یہ خلل قیمتوں کو مزید اوپر لے جائے گا۔ فی الحال مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہے اور وہ مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ یا ٹینکروں پر حملوں کی خبر براہ راست عالمی اسٹاک مارکیٹس اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان مفاہمت ہی تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کا واحد حل دکھائی دیتا ہے۔