Business
سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، یو بی ایس کی بڑی پیش گوئی
معروف مالیاتی ادارے یو بی ایس نے عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ ادارے کا ماننا ہے کہ 2027 کی پہلی ششماہی تک سونا پانچ ہزار ڈالر کی سطح کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے معروف ادارے 'یو بی ایس' (UBS) نے سونے کی مستقبل کی قیمتوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور حوصلہ افزا پیش گوئی کی ہے۔ ادارے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی طلب اور دیگر معاشی عوامل کے پیش نظر، 2027 کی پہلی ششماہی تک سونے کی قیمت 5,000 ڈالر فی اونس کی سطح کو چیلنج کر سکتی ہے۔ یہ پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر سرمایہ کار اپنی دولت کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کا رخ کر رہے ہیں، اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار، فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں تبدیلیوں کی توقعات، اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے سونے کی منڈی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جہاں ایک جانب مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، وہیں دوسری جانب سونا اپنی روایتی حیثیت 'سیف ہیون' کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق، جب بھی دنیا میں معاشی غیر یقینی کی فضا پیدا ہوتی ہے، سرمایہ کاروں کا پہلا انتخاب سونا ہی ہوتا ہے، جس سے اس کی طلب میں زبردست اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکی معیشت میں افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے اور مرکزی بینک اپنی پالیسیوں میں نرمی لاتے ہیں، تو سونے کے لیے 5,000 ڈالر کی سطح تک پہنچنا ایک ممکنہ ہدف ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ عمل مکمل طور پر عالمی سیاسی حالات اور جغرافیائی کشیدگی پر بھی منحصر ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سونے پر نظر رکھیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سونے نے ہمیشہ معاشی بحرانوں میں سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ آئندہ کچھ عرصے کے دوران مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور عالمی تجارت کے رجحانات اس سفر میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔