World
آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملہ، متحدہ عرب امارات کا ایران پر الزام
متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز میں اپنے دو تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملے کو سمندری قزاقی قرار دیتے ہوئے اسے عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس واقعے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک انتہائی اہم بیان میں ایران پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب متحدہ عرب امارات کی سرکاری کمپنی ایڈنوک (ADNOC) کے دو تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ حملہ سمندری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسے متحدہ عرب امارات نے 'سمندری قزاقی' سے تعبیر کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کا سب سے اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور جہازوں پر موجود عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تاہم، ان جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اماراتی حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے کے امن و امان کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ عالمی توانائی کی سپلائی چین کو بھی غیر مستحکم کر سکتے ہیں، جس سے بین الاقوامی منڈیوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سے عالمی برادری اور علاقائی ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرینِ دفاع کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی طرح کی فوجی یا تخریبی کارروائی عالمی تجارت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا ہے اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سخت نوٹس لیں تاکہ مستقبل میں ایسے اقدامات کو روکا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ایران اور مغربی ممالک بشمول امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ فی الحال فریقین کی جانب سے تحقیقات کا عمل جاری ہے اور سفارتی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عالمی توانائی کے تحفظ کے پیش نظر خطے کے تمام ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ سمندری حدود کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔