LIVE
Loading Breaking News...

یمن کی صورتحال: جنگ بندی کے خاتمے اور دوبارہ تنازع شروع ہونے کا خطرہ

News Image
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور جھڑپوں کے بعد جنگ کی صورتحال بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ سن 2022 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ملک کو دوبارہ مکمل جنگ میں داخل ہونے کے سنگین خدشات کا سامنا ہے۔
یمن کے مختلف محاذوں پر حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں اور فوجی نقل و حرکت میں اضافے نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق، ملک کے مختلف حصوں میں فائرنگ اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری اور فوجی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ملک ایک بار پھر عدم استحکام کی جانب گامزن ہے۔ سن 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے یمن میں مجموعی طور پر ایک نسبتاً پرسکون دور دیکھا گیا تھا، تاہم حالیہ واقعات نے اس معاہدے کی بقا پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اور سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو خطے میں امن کی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا براہ راست اثر انسانی ہمدردی کی صورتحال پر پڑ رہا ہے، جہاں پہلے ہی لاکھوں افراد خوراک اور بنیادی طبی سہولیات کی عدم فراہمی سے دوچار ہیں۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو یمن میں جاری انسانی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، مختلف محاذوں پر فریقین کے مابین ہونے والی تازہ ترین جھڑپیں 2022 کے بعد سے سب سے زیادہ تشویشناک سمجھی جا رہی ہیں۔ عالمی قوتوں اور خطے کے ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ یمنی فریقین کے ساتھ رابطے بڑھائیں تاکہ دوبارہ مکمل پیمانے پر جنگ کو روکا جا سکے۔ یمن کے عوام، جو برسوں سے اس تنازع کا شکار ہیں، اب مزید خون ریزی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے باز رہیں۔ مستقبل میں امن کا دارومدار اس بات پر منحصر ہے کہ آیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔