World
ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی، ہیگسیٹھ کا اہم بیان
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ امریکی محاذ آرائی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ سمندری حدود میں ایرانی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے یہ حکمت عملی طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امریکی عزم خطے کے جیوسیاسی حالات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کی جانب سے سمندری راستوں میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے، جس کے لیے امریکی بحریہ پہلے سے ہی خطے میں اپنی موجودگی کو تقویت دے رہی ہے۔ پیٹ ہیگسیٹھ کے بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ طویل مدتی بحری ناکہ بندی سے نہ صرف تیل کی ترسیل کے عالمی راستوں پر دباؤ بڑھنے کا خطرہ ہے بلکہ اس سے خطے میں براہ راست فوجی تصادم کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔ عالمی تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے تاحال اس بیان پر سخت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تہران پہلے ہی اس طرح کی کارروائیوں کو اپنی خود مختاری کے خلاف حملہ قرار دے چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں اس امریکی موقف پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اس تنازعے کا سفارتی حل نکالنے کے بجائے فوجی دباؤ کو ترجیح دینا خطے کو مزید غیر یقینی صورتحال کی طرف لے جا سکتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی اس خبر کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔