LIVE
Loading Breaking News...

کراچی میں ہوائی فائرنگ سے ایک ہلاکت، 94 افراد زخمی

News Image
کراچی میں یومِ آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے واقعات میں ایک خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی جبکہ بچوں سمیت 94 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اور ریسکیو اداروں کے مطابق فائرنگ کے واقعات شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے جن کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
کراچی میں یومِ آزادی کا جشن اس وقت سوگ میں بدل گیا جب شہر بھر میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ریسکیو حکام اور ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق، جشن منانے کے انداز میں کی گئی غیر ذمہ دارانہ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک خاتون اپنی جان کی بازی ہار گئی، جبکہ 17 بچوں سمیت مجموعی طور پر 94 افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ فائرنگ کے یہ واقعات شہر کے گنجان آباد علاقوں سمیت کئی مقامات پر پیش آئے، جہاں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں گرنے والی گولیوں اور چھروں سے متعدد راہگیر بھی متاثر ہوئے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد کو جناح ہسپتال، سول ہسپتال اور دیگر قریبی طبی مراکز میں لایا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یومِ آزادی کی خوشیوں کو ماتم میں بدلنے والے اس واقعے پر شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں ہوائی فائرنگ روکنے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا تھا اور کسی بھی قسم کے اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد تھی، تاہم اس کے باوجود قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ پولیس نے مختلف علاقوں سے ہوائی فائرنگ میں ملوث متعدد افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے اور مزید کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر حکومتی عہدیداروں نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ شہری سماجی حلقوں نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والے ان عناصر کے خلاف سخت ترین سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جشن منانے کا یہ طریقہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانیت سوز بھی ہے، جس سے ہر سال کئی خاندان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات درج کیے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکت کرنے کی ہمت نہ ہو۔