Health
این ایچ ایس میں اعضاء کی پیوند کاری کا نظام کیوں مشکلات کا شکار ہے؟
اعلیٰ ماہرین طب نے این ایچ ایس انگلینڈ کی جانب سے اعضاء کی پیوند کاری کے عمل میں درپیش انتظامی کوتاہیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈز اور سہولیات کی کمی سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ صحت (این ایچ ایس) کے اعلیٰ ترین طبی ماہرین نے اعضاء کی پیوند کاری کے نظام میں موجود سنگین نقائص اور انتظامی کوتاہیوں پر کھلم کھلا تنقید کی ہے۔ ایک حالیہ خط میں، جس نے طبی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، ممتاز ڈاکٹروں نے این ایچ ایس انگلینڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرانسپلانٹ سروسز کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے نتیجے میں مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ ادارہ عطیہ کردہ اعضاء کے انتظام اور مراکز کی معاونت کے لیے کوشاں ہے، تاہم فنڈنگ اور خدمات کی فراہمی کے معاملات این ایچ ایس انگلینڈ کی ذمہ داری ہیں، جہاں مبینہ طور پر عدم توجہی برتی جا رہی ہے۔
اس خط میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ اعضاء کی پیوند کاری کے لیے مختص فنڈز اور وسائل کو ہدف کے مطابق تقسیم نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے اسپتالوں میں پیوند کاری کے مراکز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ڈاکٹروں کا دعویٰ ہے کہ پیچیدہ طبی طریقہ کار کے لیے درکار ضروری آلات، عملے کی کمی، اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی نے اس نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ مریضوں کی طویل انتظار کی فہرستیں روز بروز بڑھ رہی ہیں، جس سے ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت پالیسیوں میں تبدیلی نہ لائی گئی تو اعضاء کی پیوند کاری کے شعبے میں جاری یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، این ایچ ایس کے ترجمانوں نے اس تنقید پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور بجٹ کی تقسیم کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم، طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف حکومتی دعووں سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس نظام میں بنیادی ڈھانچے کی اصلاح اور فیصلہ سازی میں طبی ماہرین کی مشاورت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ برطانوی صحت کے نظام میں اس تازہ کشیدگی نے عوامی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں لوگ اپنے پیاروں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا این ایچ ایس قیادت اس تنقید کے بعد اپنی حکمت عملی میں کوئی نمایاں تبدیلی لاتی ہے یا نہیں۔