Technology
پرندوں کی اڑان اور نیند کا سائنسی تجزیہ
سائنسی تحقیق کے مطابق کچھ پرندے دوران پرواز مختصر وقفوں کے لیے سونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس عمل کو یونی ہیمسفیئرک سلیپ کہا جاتا ہے جس میں دماغ کا صرف ایک حصہ آرام کرتا ہے۔
عام طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا پرندے طویل فاصلے طے کرتے ہوئے کبھی سوتے بھی ہیں؟ بظاہر یہ عمل ناممکن دکھائی دیتا ہے مگر سائنسی تحقیقات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کچھ پرندے دوران پرواز نیند کی کیفیت سے گزر سکتے ہیں۔ یہ کوئی عام نیند نہیں ہوتی بلکہ اس کا دورانیہ بہت مختصر ہوتا ہے اور یہ پرندوں کے زندہ رہنے کی صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرینِ حیوانیات کے مطابق یہ پرندے دراصل 'یونی ہیمسفیئرک سلیپ' (Unihemispheric Sleep) نامی عمل کا سہارا لیتے ہیں، جس میں دماغ کا ایک حصہ بیدار رہتا ہے جبکہ دوسرا حصہ آرام کر رہا ہوتا ہے۔
اس منفرد صلاحیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرندے اپنی آنکھوں میں سے ایک آنکھ کھلی رکھتے ہیں تاکہ وہ دورانِ پرواز اپنی سمت کا تعین کر سکیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچ سکیں۔ کچھ پرندے جیسے کہ 'فریگیٹ برڈز' (Frigatebirds) سمندر کے اوپر ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں اور اس دوران وہ بہت کم وقت کے لیے سوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پرندے دن بھر میں محض چند منٹ کی نیند لیتے ہیں، لیکن یہ نیند ان کے اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ عمل پرندوں کی اس خاص جسمانی ساخت کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے جو انہیں تھکاوٹ کے باوجود فضا میں مستحکم رکھتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ تمام پرندے اس طرح نہیں سو سکتے، یہ صلاحیت زیادہ تر ان اقسام میں پائی جاتی ہے جو نقل مکانی کے لیے ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔ جب ایک پرندہ ہوا میں پرواز کر رہا ہوتا ہے تو اس کا ایک حصہ دماغ کا ہوشیار رہتا ہے تاکہ وہ ہوا کے رخ کو سمجھ سکے اور زمین پر موجود شکار کے مقامات یا اپنے ساتھیوں کو دیکھ سکے۔ یہ تحقیق نہ صرف جانوروں کے رویے کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ قدرت نے ہر جاندار کو بقا کے لیے خصوصی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ پرندوں کی یہ مشقت والی زندگی اور ان کی نیند کا یہ انوکھا انداز فطرت کے عظیم رازوں میں سے ایک ہے۔