Technology
پروجیکٹ پیجن: ایشیا پیسیفک میں بلاک چین گورننس اور رسک مینجمنٹ کے لیے نیا اقدام
پروجیکٹ پیجن کنسورشیم نے ایشیا پیسیفک خطے میں پرمیشن لیس بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے ایک نئے ورکنگ گروپ کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے معیاری رسک مینجمنٹ فریم ورک تیار کرنا ہے۔
پروجیکٹ پیجن کنسورشیم نے ایشیا پیسیفک (APAC) خطے میں پرمیشن لیس بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کو محفوظ بنانے اور ان کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ گورننس معیارات کے قیام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس کنسورشیم میں ایلیپٹک (Elliptic)، ڈیجیٹل ایسٹ ایسوسی ایشن (DAA)، ریسپانسیبل فنٹیک انسٹی ٹیوٹ (RFI) اور بیکر میکنزی وونگ اینڈ لیو جیسی معروف عالمی کمپنیاں شامل ہیں۔
اس ورکنگ گروپ کا بنیادی مقصد ایک ایسا انڈسٹری اسٹینڈرڈ رسک مینجمنٹ فریم ورک تشکیل دینا ہے جو پرمیشن لیس بلاک چین نیٹ ورکس پر کام کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کے لیے رہنمائی فراہم کر سکے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں کرپٹو اثاثوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر، یہ فریم ورک گروپ 1 کے کرپٹو اثاثوں (Group 1 crypto assets) کے علاج اور ان کے ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کو فروغ ملے گا بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
کنسورشیم کے اراکین کا ماننا ہے کہ ایشیا پیسیفک خطہ ڈیجیٹل جدت طرازی کا مرکز بن چکا ہے، تاہم یہاں بلاک چین کے حوالے سے واضح معیارات اور پالیسیوں کی کمی ایک چیلنج ہے۔ اس ورکنگ گروپ کے ذریعے ان تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے تاکہ وہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو ریگولیٹری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔ اس پیش رفت سے مالیاتی اداروں کو پرمیشن لیس بلاک چین کی جانب منتقلی میں آسانی ہوگی اور تکنیکی خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے گا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ کنسورشیم مزید ٹھوس سفارشات اور عملی فریم ورکس جاری کرے گا جن کا اطلاق پورے خطے میں ممکن ہوگا۔ یہ اقدام نہ صرف فنٹیک سیکٹر کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بلاک چین گورننس کے لیے ایک نئی مثال بھی قائم کرے گا۔ پروجیکٹ پیجن کا یہ عزم ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی آزادی اور حکومتی و بین الاقوامی معیارات کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرے تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔