LIVE
Loading Breaking News...

ڈاکٹر کارل کے دلچسپ سائنسی انکشافات

News Image
مشہور سائنس دان ڈاکٹر کارل نے ٹرپل جے مارننگز پروگرام میں انسانی زندگی اور کائنات سے جڑے دلچسپ سائنسی سوالات کے جوابات دیے۔ ان کے اس سیشن میں خلائی خوشبو، ذائقے اور درجہ حرارت کے احساس جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
معروف سائنس دان ڈاکٹر کارل نے حال ہی میں 'ٹرپل جے مارننگز' کے پروگرام میں لوسی اسمتھ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انسانی تجسس اور روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے پیچیدہ سائنسی مظاہر پر روشنی ڈالی ہے۔ اس گفتگو کا محور ایسے سوالات تھے جو اکثر عام لوگوں کے ذہنوں میں اٹھتے ہیں لیکن ان کا سائنسی جواب ہر کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کارل نے اپنے مخصوص انداز میں وضاحت کی کہ کس طرح سائنسی اصول ہماری زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بحث کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ 'خلا کی بو کیسی ہوتی ہے؟'۔ ڈاکٹر کارل نے اس حوالے سے خلائی مسافروں کے تجربات کا ذکر کیا اور بتایا کہ خلائی ماحول سے لوٹنے والے لباس میں ایک خاص قسم کی دھاتی اور جلی ہوئی بو محسوس کی جاتی ہے جو خلائی دھول اور ستاروں کے گرد بننے والے کیمیائی مادوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ناشتے میں بیئر کا ذائقہ مختلف کیوں محسوس ہوتا ہے، اس پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انسانی ذائقہ دار رسیپٹرز اور صبح کے وقت ہمارے جسم میں موجود ہارمونز کی سطح پر روشنی ڈالی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا ذائقہ صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے اعصابی نظام سے جڑا ہے۔ پروگرام کے دوران درجہ حرارت کے 'فیلز لائک' (Feels Like) تصور پر بھی بات ہوئی۔ اکثر ہمیں موسم کا درجہ حرارت اصل ریڈنگ سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کارل نے وضاحت کی کہ انسانی جلد درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ نمی، ہوا کی رفتار اور سورج کی روشنی کو بھی محسوس کرتی ہے، جسے ماہرین 'ایپرنٹ ٹمپریچر' کا نام دیتے ہیں۔ یہ احساس اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ہمارا جسم اپنی حرارت کو بیرونی ماحول میں کس قدر تیزی سے خارج کر رہا ہے۔ آخر میں، انہوں نے 'ایکسلوٹلز' (Axolotls) جیسے عجیب و غریب آبی جانداروں اور ان کی جسمانی ساخت کے بارے میں بھی دلچسپ معلومات فراہم کیں۔ یہ جاندار اپنی تخلیقی صلاحیت اور جسم کے اعضا کو دوبارہ بنانے کی خاصیت کی وجہ سے دنیا بھر کے محققین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ڈاکٹر کارل کا یہ سیشن نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ سائنس صرف لیبارٹریوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمارے گردونواح میں چھپے ہر راز کا جواب ہے۔