World
امریکہ ایران بحری ناکہ بندی اور عالمی منڈیوں کی صورتحال
پینٹاگون کے مطابق امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر طویل المدتی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خطے میں تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈیوں اور اسٹاکس میں ایک ریکارڈ ساز تیزی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
عالمی سطح پر اس وقت ایک طرف مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں تو دوسری طرف مالیاتی منڈیوں میں اہم معاشی سرگرمیاں جاری ہیں۔ سی این بی سی کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں جاری تنازع ایک طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے گہرے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر پڑ رہے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اور پینٹاگون کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جنگی صورتحال میں خلیج عمان اور اس سے منسلک سمندری حدود میں کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب امریکی افواج نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ اس قسم کے واقعات سے بین الاقوامی بحری تجارت اور سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ ادارے انتہائی تشویش کا شکار ہیں۔ تجارتی اور دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ بحری ناکہ بندی اسی طرح طویل عرصے تک جاری رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور تجارتی اخراجات میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ایک طرف جہاں اس فوجی اور جغرافیائی سیاسی بحران نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف مالیاتی منڈیوں میں عجیب تضاد پایا جاتا ہے۔ اسٹاک مارکیٹوں میں بعض شعبوں کی جانب سے ریکارڈ توڑ تیزی کے رجحانات بھی سامنے آئے ہیں، جسے سرمایہ کار اور ماہرین معیشت گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی صورتحال انتہائی حساس ہے جہاں ایک طرف جنگی خطرات منڈلا رہے ہیں تو دوسری طرف سرمایہ کار نئے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم طویل مدتی جنگی تنازع پوری دنیا کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔