LIVE
Loading Breaking News...

نئی تعمیر شدہ لنک روڈ کا حال خستہ، کروڑوں کا فنڈ ضائع

News Image
شہر کی مرکزی لنک روڈ کو صرف چھ ماہ قبل ہی کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا لیکن ناقص میٹریل کے استعمال سے یہ سڑک اب جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
شہر کی اہم ترین لنک روڈ جو کہ گزشتہ چھ ماہ قبل ہی کروڑوں روپے کے فنڈز سے تعمیر کی گئی تھی، انتہائی مختصر عرصے میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اپنی اصلیت ظاہر کر چکی ہے۔ سڑک پر جابجا بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں اور جگہ جگہ گہرے گڑھے بن جانے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے مسافروں اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تعمیر کے وقت ہی ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایات کی گئی تھیں، لیکن اس وقت انتظامیہ نے کسی کی ایک نہ سنی، جس کا خمیازہ اب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مقامی شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ یہ روڈ علاقے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر اب یہاں سے گزرنا کسی بڑے حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ گڑھوں کے باعث موٹر سائیکل سوار گر کر زخمی ہو رہے ہیں جبکہ گاڑیوں کے سسپنشن بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ سڑک کی یہ خستہ حالی نہ صرف تعمیراتی معیار پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والے فنڈز کے شفاف ہونے پر بھی گہرے شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔ دوسری جانب متعلقہ محکمہ تعمیرات کی جانب سے ابھی تک کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کی کوالٹی کنٹرول رپورٹ منظر عام پر لائی جائے اور جن ٹھیکیداروں اور افسران نے ناقص مٹیریل کی منظوری دی تھی، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اگر فوری طور پر اس روڈ کی دوبارہ مرمت نہ کی گئی تو علاقہ مکین احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ایک ذمہ دار شہری کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ٹیکس کا پیسہ اس لیے نہیں دیتے کہ وہ چند ماہ میں ہی زمین بوس ہو جائے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور اس روڈ کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کر کے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ یہ صورتحال دراصل سرکاری محکموں کی غفلت اور نگرانی کے نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔