World
امریکی تجارتی پابندیوں کی خلاف ورزی: چین کا نیا طریقہ کار بے نقاب
ایک حالیہ امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین ٹرمپ دور کے ٹیرف سے بچنے کے لیے اپنی مصنوعات دیگر ممالک کے ذریعے امریکہ بھیج رہا ہے۔ اس عمل میں درجنوں ممالک مبینہ طور پر ملوث ہیں جو چین کی تجارت کو غیر قانونی راستوں سے سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں انتہائی اہم انکشافات کیے گئے ہیں، جس کے مطابق چین ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں نافذ کیے گئے ٹیرف سے بچنے کے لیے ایک منظم حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو براہ راست امریکہ بھیجنے کے بجائے ایسے ممالک کا انتخاب کر رہی ہیں جہاں ٹیرف کی شرحیں کم ہیں یا جہاں امریکی پابندیاں اتنی سخت نہیں ہیں۔ اس عمل کے ذریعے چین اپنی اشیاء کو پہلے ان ممالک میں بھیجتا ہے اور پھر وہاں سے انہیں امریکی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے، تاکہ بھاری ٹیکسوں سے بچا جا سکے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس غیر قانونی اور دھوکہ دہی پر مبنی تجارت میں درجنوں ممالک شامل ہیں۔ یہ ممالک چین کی مصنوعات کو ری پیکجنگ یا معمولی تبدیلی کے ساتھ امریکی مارکیٹ میں داخل کرنے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، جس سے امریکی انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی تجارتی پابندیوں کا اثر زائل ہو رہا ہے۔ امریکی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف امریکی محصولات پر اثر پڑ رہا ہے بلکہ یہ عالمی تجارتی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ واشنگٹن میں موجود حکام اب ان ممالک کی فہرست مرتب کر رہے ہیں جو چین کی اس تجارتی چال میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ امریکی محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایسے ممالک اور کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے پر غور کر رہے ہیں جو ٹیرف کی اس ہیرا پھیری میں ملوث ہیں۔ یہ صورتحال امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے کشیدہ تجارتی تعلقات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ دوسری جانب، چین نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے امریکہ کی جانب سے تجارتی تحفظ پسندی کا ایک اور ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔ عالمی تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عالمی سطح پر تجارتی نظام کو پیچیدہ بنا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں مستقبل میں مزید تجارتی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ فی الحال، امریکہ کی جانب سے اس معاملے پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ درآمدی سامان کی اصلیت اور اس کے سفر کے راستوں کا درست تعین کیا جا سکے۔