LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدارتی انتخاب: کیا ڈونلڈ ٹرمپ تیسری بار امیدوار بن سکتے ہیں؟

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ امریکی قوانین انہیں تیسری بار صدر بننے سے سختی سے روکتے ہیں۔ امریکی آئین کے تحت کوئی بھی فرد دو بار سے زیادہ صدارتی عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔
امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار اور ان کے مستقبل کے حوالے سے اکثر بحث و مباحثے جاری رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ سوال ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ کسی مرحلے پر تیسری بار صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اس حوالے سے خود ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی قوانین ان کے تیسری بار امیدوار بننے کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ ہیں۔ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کے تحت کوئی بھی شخص دو بار سے زیادہ امریکی صدر کے عہدے پر منتخب نہیں ہو سکتا، جس کے بعد قانونی طور پر راستہ بند ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ امریکہ میں صدارتی مدت کی حد کو بہت اہمیت حاصل ہے اور اس سے متعلق قوانین نہایت سخت ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ان قانونی پابندیوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہیں تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، قانون بہت مضبوط ہے اور اسے تبدیل کرنا یا اس سے استثنا حاصل کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے اکثر اوقات طنزیہ یا سنجیدہ انداز میں تیسری مدت کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اسے کسی بھی طرح ممکن نہیں سمجھا جاتا کیونکہ امریکی جمہوری نظام میں اس طرح کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ مزید برآں، یہ بحث محض قیاس آرائیوں تک محدود ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امریکی تاریخ میں آج تک کسی بھی صدر نے دو مدتوں سے زائد صدارت نہیں کی، سوائے ان چند استثنائی واقعات کے جو آئین بننے سے قبل یا مخصوص حالات میں پیش آئے۔ موجودہ سیاسی تناظر میں، امریکی سپریم کورٹ اور آئینی ڈھانچہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اقتدار کی منتقلی اور مدت کی حدود کا سختی سے پاس رکھا جائے۔ چنانچہ، ڈونلڈ ٹرمپ کا تیسری بار صدارتی امیدوار بننا قانوناً ممکن نہیں ہے اور وہ خود بھی اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ آئینی حدود کے پابند ہیں۔