World
ناروے کے وزیر خارجہ کا ایران کی صورتحال پر اہم بیان
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ اپنے اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس حکمت عملی نے تہران میں سخت گیر عناصر کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں ایران کے خلاف مغربی پالیسیوں بالخصوص امریکی موقف پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف اختیار کردہ جنگی حکمت عملی نہ صرف اپنے ابتدائی اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس کے خطے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نارویجن وزیر خارجہ کے مطابق، طاقت کے استعمال کی یہ پالیسی کسی بھی طرح سے ایک 'سمارٹ' یا دانشمندانہ قدم نہیں تھی جس کے نتائج نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایسپن بارتھ ایڈے نے اپنے تجزیے میں مزید کہا کہ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس نے تہران میں موجود سخت گیر حلقوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب کسی ملک کو بیرونی دباؤ اور جنگی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہاں کے سیاسی منظرنامے میں اعتدال پسند آوازیں دب جاتی ہیں اور انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے عناصر مرکزی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ صورتحال سفارت کاری کے دروازے بند کرنے کا باعث بنتی ہے، جو کہ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نکالنے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
ناروے کے وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں بحران کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایڈے نے زور دیا کہ عسکری دباؤ کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ ماضی کے تجربات ثابت کر چکے ہیں کہ جنگ کے ذریعے سیاسی مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بین الاقوامی برادری نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو خطے میں عدم استحکام کا یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا ان سے متاثر ہوگی۔
آخر میں، نارویجن وزیر خارجہ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بات چیت اور باہمی تعاون کے راستے تلاش کریں۔ ان کے مطابق، ایران کے ساتھ موجودہ تناؤ کو کم کرنے کا واحد راستہ ایک ایسا سیاسی عمل ہے جس میں تمام فریقین کے تحفظات کو مدنظر رکھا جائے اور طاقت کے استعمال کے بجائے تعمیری مذاکرات کو فروغ دیا جائے۔ ان کا یہ بیان عالمی سطح پر ایران مخالف اتحادوں کے لیے ایک اہم انتباہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے مغرب کی موجودہ خارجہ پالیسی کے بارے میں پائے جانے والے تحفظات مزید اجاگر ہوئے ہیں۔