LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر دفاع کا متنازع بیان: فلسطینی زمین پر قبضے کی حمایت

News Image
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر انتہا پسند آبادکاروں کی کھلے عام حمایت کی ہے۔ کاٹز نے اپنے بیان میں فلسطینی زمین پر قابض آبادکاروں کو سراہتے ہوئے ان کی کارروائیوں کو اہمیت دی ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک انتہائی متنازع بیان دیتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر قائم یہودی بستیوں کے انتہا پسند نوجوانوں، جنہیں 'ہل ٹاپ یوتھ' کہا جاتا ہے، کی کارروائیوں کو سراہا ہے۔ کاٹز نے اپنے خطاب کے دوران ان آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی زمینوں پر قبضہ برقرار رکھنے اور وہاں اپنے قدم جمانے کے اقدام کی کھلے الفاظ میں تعریف کی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری پہلے ہی مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان انتہا پسند آبادکاروں کے حوصلے بڑھانے کا باعث بنے گا، جو پہلے ہی فلسطینی آبادی کے خلاف تشدد اور زمینوں پر قبضے کی مہم میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ہل ٹاپ یوتھ نامی یہ گروپ اکثر فلسطینیوں کی زرعی زمینوں اور گھروں پر زبردستی قبضہ کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، اور اسرائیل کی موجودہ کابینہ کی جانب سے انہیں دی جانے والی کھلی حمایت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تل ابیب کی پالیسیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کرنے کی جانب گامزن ہیں۔ دوسری جانب، فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیل کاٹز کے اس بیان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کا یہ طرز عمل نہ صرف عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ مقبوضہ علاقوں میں تشدد کی نئی لہر کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ عالمی سطح پر بھی اسرائیل کی جانب سے ان غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ افزائی کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ کاٹز کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی حکومت انتہا پسند آبادکاروں کے ایجنڈے کو اپنی ریاستی پالیسی کا حصہ بنا چکی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس طرح کے بیانات سے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ فلسطینی عوام پہلے ہی اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے اپنی زمینوں سے بے دخل کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی جانب سے اس قبضے کی توثیق کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے دنوں میں مقبوضہ علاقوں میں صورتحال مزید گمبھیر ہو سکتی ہے اور عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔