LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کی ریکارڈ وصولی اور مالیاتی صورتحال

News Image
مالی سال 2026 کے دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے ریکارڈ 1.57 ٹریلین روپے جمع کیے جبکہ وفاقی اخراجات میں کمی اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارہ 2.6 فیصد پر آ گیا۔ دفاعی بجٹ اور سول حکومت کے اخراجات میں اضافے کے باوجود شرح سود میں کمی نے ملکی معیشت کو سہارا دیا۔
اسلام آباد میں وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالی سال 2026 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.567 ٹریلین روپے کی ریکارڈ وصولی کی ہے۔ یہ رقم گزشتہ برس کے 1.22 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے اور یہ حکومتی اہداف سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس آمدنی کا بڑا حصہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مقامی سطح پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے باعث ممکن ہوا ہے۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم لیوی کی اس بڑی رقم میں کسٹم ڈیوٹی اور کاربن لیوی کی مد میں جمع ہونے والی اضافی رقوم شامل نہیں ہیں۔ ملکی معاشی اعداد و شمار کے مطابق، سرکاری اخراجات میں احتیاطی تدابیر اور اصلاحات کے باوجود سول حکومت کو چلانے کے اخراجات 16 فیصد اضافے کے ساتھ پہلی بار 1 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئے اور 1.033 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ اسی طرح دفاعی اخراجات بھی 18 فیصد اضافے کے ساتھ 2.588 ٹریلین روپے ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم، شرح سود میں 22 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد تک آنے کی بدولت سود کی ادائیگیوں میں 1.939 ٹریلین روپے کی نمایاں کمی ہوئی، جس نے حکومتی بجٹ پر بوجھ کو کافی حد تک ہلکا کر دیا۔ مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود رکھنے میں صوبائی حکومتوں کے ریکارڈ سرپلس کا کلیدی کردار رہا ہے۔ چاروں صوبوں نے مرکز کو 1.45 ٹریلین روپے کا نقد سرپلس فراہم کیا، جس میں پنجاب کا حصہ 915 ارب روپے کے ساتھ نمایاں رہا۔ اس مالیاتی نظم و ضبط اور پرائمری سرپلس کے جی ڈی پی کے 2.9 فیصد تک پہنچنے کی وجہ سے حکومت کو اپنے مالیاتی اہداف حاصل کرنے میں بڑی مدد ملی۔ ماہرین کے مطابق یہ شرح خسارہ مالی سال 2003 کے بعد سے سب سے کم ہے، جو آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تحت کی جانے والی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ حکومت کو شماریاتی تضاد (Statistical Discrepancy) کا سامنا ہے جو کہ 853 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ تضاد وفاقی اور صوبائی سطح پر رپورٹنگ میں وقت کے فرق اور بینک ڈپازٹس میں تبدیلیوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر، اگرچہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں اپنے ہدف سے 10 فیصد کم رہیں، لیکن مجموعی اخراجات میں کمی اور صوبائی تعاون نے ملکی معیشت کو مالی استحکام کی طرف گامزن رکھا ہے، جس سے آنے والے سالوں میں ترقیاتی اخراجات کے لیے مزید گنجائش پیدا ہونے کی توقع ہے۔