LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعلیٰ کے پی کا اڈیالہ جیل دورے اور احتجاج کے حوالے سے اہم بیان

News Image
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ جب تک حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کرتی، وہ 27 ستمبر سے پہلے دوبارہ اڈیالہ جیل نہیں آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملاقات کا موقع نہ ملا تو پی ٹی آئی کارکن ملک بھر میں احتجاج کریں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ 27 ستمبر تک دوبارہ اڈیالہ جیل کا رخ نہیں کریں گے جب تک حکومت خود بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کرتی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جیل کی صورتحال سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ حکام انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ملاقات کی اجازت نہ ملی تو پی ٹی آئی کے کارکن ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئیں گے اور احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس سمیت اہم سرکاری دفاتر کو بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ دفاتر ملکی نظام چلانے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور ان کے فیصلے بے اثر ہیں، تو ان پر عوامی ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنا بے معنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک کا ہر طبقہ، بشمول مزدور اور صنعت کار، موجودہ نظام سے مایوس ہے اور ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کی کال کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اس دن دو ملین سے زائد افراد سڑکوں پر ہوں گے اور یہ دن حکمرانوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ قومی اور پارٹی پرچم تھام کر سڑکوں پر نکلیں تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک ناقابل قبول ہے۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے حکم کے باوجود ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ادارے بے بس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی کا احتجاجی سلسلہ خیبر سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیل جائے گا اور ان کی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک ملک میں حقیقی جمہوریت اور انصاف کا بول بالا نہیں ہو جاتا۔