LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی قتل کیس میں کاروباری پارٹنر کو عبوری ضمانت

News Image
کراچی میں وافلکس کے مالک میر رضا علی کے قتل کیس میں عدالت نے ان کے کاروباری ساتھی محمد احمد بھاردی کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت دے دی ہے۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مقتول کے خاندان کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے ہیں۔
کراچی کی سیشن عدالت نے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی اور مشہور فوڈ چین ’وافلکس‘ کے مالک میر رضا علی کے قتل کیس میں ان کے کاروباری شراکت دار محمد احمد بھاردی کو عبوری ضمانت قبل از گرفتاری دے دی ہے۔ میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے اور اگلے روز ان کی گولیوں سے چھلنی لاش گلستان جوہر میں یونیورسٹی آف کراچی کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔ ملزم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ان کا نام اس کیس میں شامل کیا گیا ہے جس پر عدالت نے انہیں عبوری ضمانت کی سہولت فراہم کی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (ایسٹ) کی عدالت نے سماعت کے بعد محمد احمد بھاردی کو ایک لاکھ روپے کے زرِ ضمانت کے عوض عبوری ضمانت منظور کی اور تفتیشی افسر و استغاثہ کو 15 اگست کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل میر رضا کا بچپن کا دوست ہے اور وہ گزشتہ کافی عرصے سے اکٹھے کاروبار چلا رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احمد فائیو اسٹار چورنگی پر واقع برانچ کو سنبھالتے تھے جبکہ میر رضا بہادر آباد والی برانچ کے معاملات دیکھتے تھے۔ وکیل کے مطابق، پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے خدشے کے پیش نظر عدالت سے رجوع کیا گیا، اور ان کا موکل شامل تفتیش ہونے کے لیے تیار ہے۔ ادھر، سندھ آئی جی کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم، جس کی سربراہی ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کر رہے ہیں، کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔ ڈی آئی جی فاروقی نے تصدیق کی ہے کہ ڈی ایس پی سراج لاشاری کو اس کیس کا تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پہلے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں اور اس جگہ کا باریکی سے جائزہ بھی لیا ہے جہاں مقتول کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ مقتول کے اہل خانہ کے بیانات بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں تاکہ حقائق تک پہنچا جا سکے۔ کیس کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری ضمانت ملنے کے باوجود ملزم کا نام تفتیش سے خارج نہیں ہوتا۔ وکیل صفائی نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کا موکل ایس ایچ او، ایس ایس پی یا کسی بھی متعلقہ عہدیدار کی جانب سے بلائے جانے پر ہمیشہ پیش ہوا ہے اور پولیس کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 اگست کو ہونے والی آئندہ سماعت میں عدالت اس ضمانت کی توثیق کرتی ہے یا پولیس کی جانب سے مزید شواہد پیش کیے جاتے ہیں۔ فی الحال علاقے میں اس ہائی پروفائل قتل نے کاروباری حلقوں اور شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور ہر کوئی جلد از جلد انصاف کے تقاضے پورے ہونے کا منتظر ہے۔