Business
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور سندھ حکومت کا موقف
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے ساتھ معاملات تقریباً طے پا چکے ہیں اور باقی ماندہ مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب کاروباری برادری نے خبردار کیا ہے کہ ہڑتال کے باعث برآمدات اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری چھ روزہ ہڑتال نے ملکی معیشت اور صنعتی پیداوار کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کی تقریب کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ معاملات تقریباً حل ہو چکے ہیں اور صرف چند نکات پر بات چیت باقی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان آخری رکاوٹوں کو بھی فوری طور پر دور کریں تاکہ صنعت و تجارت کی بحالی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
دوسری جانب صنعت کاروں اور تاجروں کی تنظیموں نے ہڑتال کے طویل دورانیے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل میں تعطل سے فیکٹریاں بند ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قلت سے مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے، جس کے براہِ راست اثرات عام شہری پر پڑیں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے عہدیداروں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے اس تعطل کو ختم کرے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کے برآمدی کنٹینرز فیکٹریوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے ملکی برآمدات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر معیشت کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمدات کا ہدف 100 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سندھ کے مقامی توانائی کے ذرائع بشمول تھر کوئلہ، شمسی اور ونڈ پاور کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پیداواری لاگت کو کم کر کے پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنایا جا سکے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تھر کوئلے سے سستی بجلی کی فراہمی صنعتوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے مقامی وسائل کو بروئے کار لایا جائے تاکہ معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔