Pakistan
بلوچستان سیلاب متاثرین: حکومت کی جانب سے مکانات کی تعمیر اور بحالی کا عمل جاری
وفاقی وزارت منصوبہ بندی نے واضح کیا ہے کہ 2022 کے سیلاب سے متاثرہ تمام اہل خاندانوں کی تعمیر نو کے لیے حکومتی عزم اٹل ہے۔ وزارت نے کہا کہ بلوچستان میں ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت ہزاروں مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور مزید پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ حکومت 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے ہر اہل خاندان کی بحالی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ یہ بیان ان رپورٹس کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے سیلاب بحالی منصوبے میں تبدیلیوں کے باعث بلوچستان کے ہزاروں متاثرہ خاندان اپنی رہائش گاہوں کی تعمیر نو سے محروم ہو سکتے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ (PDNA) کے تحت بلوچستان میں 68,992 مکمل تباہ شدہ مکانات کی نشاندہی کی گئی تھی جو تعمیر نو کی معاونت کے اہل ہیں، اور یہ تمام خاندان انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروگرام (IFRAP) کے تحت دی گئی یقین دہانیوں کے مطابق امداد کے حقدار ہیں۔
منصوبے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے وزارت نے بتایا کہ اب تک 74,988 مکانات پر تعمیراتی کام شروع کیا جا چکا ہے، جن میں سے 26,357 مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ یہ کام مکمل طور پر متاثرین کی اپنی زیر نگرانی (Owner-driven) ماڈل کے تحت کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ IFRAP کا مقصد صرف مکانات کی تعمیر نہیں بلکہ کمیونٹی کی مجموعی بحالی ہے۔ اس میں اسکولوں، صحت کی سہولیات، آبپاشی کے نظام، سڑکوں کی تعمیر اور ذرائع معاش کی فراہمی شامل ہے تاکہ متاثرین کو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ آفت سے بچایا جا سکے۔ فنڈز کی دوبارہ تخصیص کا فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اسٹیئرنگ کمیٹی نے کیا ہے تاکہ وسائل کو زیادہ بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، ہاؤسنگ کے شعبے میں اب تک تقریباً 161 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں جو کہ ابتدائی پی سی ون کی لاگت 155 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ تاہم، وزارت منصوبہ بندی نے پروجیکٹ کے نفاذ اور کارکردگی پر اٹھنے والے خدشات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس حوالے سے پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی نے ایک اعلیٰ سطحی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ منصوبے میں کسی بھی قسم کی کوتاہیوں کا شفاف تعین کیا جا سکے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ان متاثرین کی زندگیوں کو معمول پر لانا ہے جنہوں نے دو سال قبل سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کیا تھا۔
دوسری جانب، عالمی بینک کی جانب سے سامنے آنے والی دستاویزات اور خطوط میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں تصدیق شدہ متاثرین امداد کے منتظر ہیں، جن کے لیے فنڈنگ کا دائرہ کار محدود کرنے سے غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی ان تمام تحفظات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی مستحق خاندان اس اہم قومی فلاحی منصوبے سے محروم نہ رہے۔