Politics
پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کشیدگی: ججز تقرری کا تنازع حل لیکن مشکلات برقرار
حکومتی اتحاد میں ججز کی تعیناتی پر پیدا ہونے والا تعطل وقتی طور پر ختم ہو گیا ہے تاہم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان دیگر سیاسی معاملات پر خلیج برقرار ہے۔ دونوں جماعتیں نئے صوبوں کے قیام اور دیگر حساس امور پر ایک دوسرے کے ساتھ تال میل بٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ججز کی تعیناتی پر پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک بظاہر ختم ہو چکا ہے، تاہم دونوں اتحادی جماعتوں کے مابین تعلقات میں کشیدگی اور خلیج کے گہرے اثرات بدستور موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی تلخی ابھی تھمی ہی تھی کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ججز کی نامزدگیوں پر دونوں جماعتوں میں ٹھن گئی۔ یہ معاملہ منگل کے روز کافی تاخیر کے بعد حل کیا گیا، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ حکومتی اتحاد کی راہ میں آنے والے چند بڑے چیلنجز میں سے محض ایک ہے۔
اس صورتحال کے حوالے سے پی پی پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنی قیادت سے رہنمائی کی منتظر ہے جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) ان معاملات پر کسی بھی قسم کی بحث کو فی الحال ملتوی کرنا چاہتی ہے۔ خاص طور پر نئے صوبوں کے قیام کا موضوع دونوں جماعتوں کے درمیان سب سے حساس معاملہ بنا ہوا ہے، جسے مسلم لیگ (ن) موجودہ اسمبلی کے بجائے اگلی منتخب اسمبلیوں پر چھوڑنے کی خواہشمند ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں معاملہ زیر سماعت آنے کے بعد دونوں فریقین نے یہ محسوس کیا کہ اسے عدالت سے باہر ہی حل کرنا دانشمندی ہے، جس کے بعد صدر آصف علی زرداری کی قانونی ٹیم اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس نے ججز کی تقرری کی راہ ہموار کی۔
پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا موقف اس معاملے پر کافی سخت ہے اور وہ کسی بھی آئینی خلاف ورزی کا دفاع نہیں کریں گے۔ پارٹی قیادت جلد ہی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کا اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ان تمام اہم معاملات پر ایک واضح حکمت عملی طے کی جا سکے۔ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کا یہ بھی ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کے باوجود اتحاد کا مستقبل فی الحال خطرے میں نہیں ہے، تاہم پارٹی کے فیصلے مکمل طور پر بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کے تابع ہوں گے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے اس صورتحال پر انتہائی محتاط رویہ اپنا رکھا ہے۔ شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے والے ایک رہنما کے مطابق حکومت کا ماننا ہے کہ انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کا معاملہ فی الحال بحث سے باہر رکھا جائے اور اسے 2029 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلیوں پر چھوڑ دیا جائے۔ صدر زرداری کی جانب سے ججز کی تقرری پر رضامندی کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ شاید حکومت نے دیگر حساس معاملات پر کچھ یقین دہانیاں حاصل کر لی ہوں۔ بہرحال، مستقبل میں اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور سیاسی معاملات پر ہم آہنگی ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔