Pakistan
پاکستان میں بڑھتی ہوئی سختی اور سزاؤں کا سماجی اثرات پر تجزیہ
پاکستان میں ٹریفک پولیس سے لے کر دیگر ریاستی اداروں تک سختی اور بھاری جرمانوں کا بڑھتا ہوا رجحان طویل مدتی پالیسی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ محض سزاؤں میں اضافہ کرنے سے معاشرتی نظم و ضبط قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اس سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا مجروح ہو رہی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے ایک تشویشناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں سرکاری محکمے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے بجائے محض سخت سزاؤں اور جرمانوں کے ذریعے کام چلانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لاہور جیسے بڑے شہروں میں اکثر ٹریفک سگنلز خراب یا بند ہوتے ہیں، لیکن ٹریفک وارڈنز ٹریفک کو منظم کرنے کے بجائے صرف چالان کرنے اور بھاری جرمانے وصول کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ معیشت کے بنیادی اصولوں کے مطابق لوگ ترغیبات پر ردعمل دیتے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ ٹریفک محکموں نے اپنے اہلکاروں کو چالان کے کوٹے پورے کرنے کا ہدف دے رکھا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سڑکوں پر نظم و ضبط کے بجائے آمدنی بڑھانا ان کی ترجیح بن چکا ہے۔
یہ صورتحال صرف ٹریفک کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ دیگر سرکاری محکمے بھی 'ڈنڈے' کے زور پر معاملات چلانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ موٹر وے پر تیز رفتاری روکنے کے لیے جرمانے ناکام ہوئے تو ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ نوجوان موٹر سائیکل سواروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا ان کے کیریئر اور مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ٹیکس حکام، بجلی و گیس چوری کی روک تھام کرنے والے ادارے، اور یہاں تک کہ آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے بھی سخت تعزیری قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پنجاب میں پولیس مقابلوں کے نام پر ہونے والی اموات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عدالتی عمل سے ہٹ کر سزائیں دینا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
سختی کے اس رجحان کے طویل مدتی اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ جب سزا جرم کے مقابلے میں بہت زیادہ سخت ہو جائے تو وہ اپنی افادیت کھو دیتی ہے اور معاشرے میں ریاست کے خلاف بداعتمادی پیدا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ممالک سخت قوانین سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، انصاف اور شفافیت سے ترقی کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں جو 'تعزیری سائیکل' چل رہا ہے، وہ وقتی طور پر تو شاید نظم و ضبط لانے میں مددگار ثابت ہو، لیکن طویل مدت میں یہ معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر دے گا۔ اگر سیاسی قیادت نے اس صورتحال کا بروقت ادراک نہ کیا اور اصلاحی اقدامات کے بجائے محض سزا پر انحصار جاری رکھا، تو یہ مستقبل میں سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔
ریاست کا کام محض شہریوں کو خوفزدہ کرنا یا ان پر بھاری جرمانے عائد کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں شہری خود قانون کا احترام کریں۔ جب تک ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو ایک 'خدمت' کے طور پر نہیں اپنائیں گے اور سزاؤں کو اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے محض انتقامی کارروائی کے طور پر استعمال کریں گے، تب تک ملک میں قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی ساز اس بات پر غور کریں کہ کیا موجودہ سزائیں جرم کے تناسب سے ہیں اور کیا یہ طریقہ کار پاکستان کے مستقبل کے لیے سودمند ثابت ہو رہا ہے۔