World
امریکی امیگریشن کی جانب سے الیکٹرک شاک گلوز کی خریداری پر شدید تنقید
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے فیلڈ افسران کے لیے الیکٹرک شاک گلوز کی خریداری کے فیصلے پر انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امیگرنٹس کے ساتھ پرتشدد رویے کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، جسے عام طور پر ICE کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اپنے فیلڈ افسران کے لیے برقی جھٹکے دینے والے دستانے (الیکٹرک شاک گلوز) کی خریداری کا ایک متنازعہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بظاہر حراست میں لیے گئے افراد کو قابو میں رکھنا اور افسران کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، تاہم یہ فیصلہ سامنے آتے ہی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی اور مقامی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طاقت کا اس طرح کا استعمال غیر انسانی ہے اور اس سے امیگرنٹس کے حقوق کی پامالی کے خطرات میں اضافہ ہوگا۔
انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برقی آلات کا استعمال، خاص طور پر امیگریشن کے معاملات میں، پہلے سے ہی حساس صورتحال کو مزید پرتشدد بنا سکتا ہے۔ ان تنظیموں کا ماننا ہے کہ الیکٹرک شاک گلوز کا غلط استعمال سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ایجنسی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کی جانب مائل ہے۔ ماضی میں بھی امیگریشن ایجنسی پر حراستی مراکز میں بدسلوکی اور غیر انسانی رویے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس نئے فیصلے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، حکومتی ذرائع اور ایجنسی کے حامیوں کا موقف ہے کہ افسران کو اپنی حفاظت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے جدید آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دستانے دیگر پرتشدد ہتھیاروں کے مقابلے میں ایک محفوظ متبادل ہو سکتے ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قابو پانے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والے گروپس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اس کے انسانی حقوق پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں تارکین وطن کے حوالے سے سیاسی بحث و تکرار اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو سکیورٹی کے اقدامات کے ساتھ ساتھ انسانیت اور قانون کی بالادستی کا توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایجنسی ان بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اپنے اس متنازعہ منصوبے کو برقرار رکھتی ہے یا عوامی احتجاج کے بعد اسے واپس لینے پر مجبور ہوتی ہے۔ اس معاملے پر امریکی کانگریس میں بھی بحث متوقع ہے کیونکہ شہری حقوق کے علمبرداروں نے اس معاملے کو ایوان تک لے جانے کا عندیہ دیا ہے۔