LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا بڑا فراڈ: بکسونیمانیا کی حقیقت

News Image
بکسونیمانیا نامی ایک جعلی بیماری نے حالیہ برسوں میں جدید مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اور مستند سائنسی جریدوں کو بھی گمراہ کر دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ آن لائن معلومات کی تصدیق کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔
گذشتہ دو برسوں کے دوران اگر آپ نے کسی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) چیٹ بوٹ سے اپنی آنکھوں کی خارش یا پلکوں پر موجود سیاہ نشانات کے بارے میں سوال کیا ہوگا تو ایک قوی امکان ہے کہ آپ کو 'بکسونیمانیا' (Bixonimania) نامی بیماری کا نام بتایا گیا ہوگا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ بیماری حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتی، لیکن اس کے باوجود جدید ترین چیٹ بوٹس نے اسے ایک حقیقی طبی حالت کے طور پر پیش کیا۔ یہ واقعہ نہ صرف عام صارفین کے لیے بلکہ سائنسی دنیا کے لیے بھی ایک بڑا انتباہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کس حد تک غلط معلومات کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بکسونیمانیا کا نام اور اس کی علامات کو ایک منظم طریقے سے آن لائن پھیلایا گیا تھا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز چونکہ انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا کی بنیاد پر تربیت پاتے ہیں، اس لیے انہوں نے اس فرضی بیماری کو مستند سمجھ لیا اور اپنے صارفین کو اس سے متعلق غلط طبی مشورے دیے۔ بدقسمتی کی انتہا یہ رہی کہ نہ صرف چیٹ بوٹس بلکہ ایک ہم عصر جائزہ لینے والے (Peer-Reviewed) سائنسی جریدے نے بھی اس فرضی بیماری کو اپنے تحقیقی مواد میں شامل کر لیا، جس سے سائنسی اشاعت کے معیار اور تصدیقی عمل پر سوالیہ نشان لگ گئے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ یہ 'ہیلوجنیشن' (Hallucination) کا ایک سنگین کیس ہے، جہاں اے آئی سسٹم انتہائی اعتماد کے ساتھ غلط معلومات تخلیق کرتا ہے۔ چیٹ بوٹس نے بکسونیمانیا کے لیے ایسی علامات بیان کیں جو بظاہر سائنسی لگتی تھیں، جس کی وجہ سے عام انسانوں کے لیے یہ پہچاننا ناممکن ہو گیا کہ آیا یہ معلومات درست ہیں یا نہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طبی یا حساس نوعیت کے مشوروں کے لیے مکمل طور پر اے آئی پر انحصار کرنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد اب دنیا بھر کے محققین اور اے آئی ڈویلپرز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز کو مزید محفوظ اور حقیقت پسندانہ بنایا جائے۔ یہ ضروری ہے کہ سائنسی جریدے اور تحقیقی ادارے اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد کی اشاعت سے قبل سخت ترین پڑتال کریں۔ بکسونیمانیا کا یہ قصہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، انسانی بصیرت اور حقائق کی تصدیق کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی طبی حالت کے بارے میں اے آئی سے معلومات لینے کے بعد ہمیشہ کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔