Pakistan
یومِ آزادی پاکستان اور قائد اعظم کا خواب
پاکستان کے تہتر ویں یومِ آزادی کے موقع پر ملک میں سیاسی اور معاشی خودمختاری کے حصول پر گہرے مباحثے جاری ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے مساوی معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔
پاکستان کے اناسی ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں اس عزم کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ وطنِ عزیز کو قائد اعظم محمد علی جناح کے اقدار کے مطابق ایک فلاحی اور مساوات پر مبنی ریاست بنایا جائے۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا रहा ہے کہ حقیقی آزادی صرف سیاسی طور پر غلامی سے چھٹکارا پانے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور مالیاتی خودمختاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ملک کو اس وقت متعدد اندرونی اور بیرونی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں این ایف سی ایوارڈ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے اہم امور سرِ فہرست ہیں۔ جب تک صوبوں اور وفاق کے درمیان مالیاتی معاملات کو شفاف اور منصفانه طریقے سے طے نہیں کیا جاتا، عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا اور مساوی معاشرے کی تشکیل کا خواب ادھورا رہے گا۔
اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی معیشت کی بہتری کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کریں۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی کا حصول ناممکن ہے، اور معاشی استحکام ہی وہ بنیادی زینہ ہے جس پر چڑھ کر عوام کو بنیادی سہولیات اور مساوی حقوق فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
آزادی کے اس تہوار پر ہمیں ان تمام قربانیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو ہمارے بزرگوں نے اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے دی تھیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کو ایک مستحکم، خودمختار اور خوشحال پاکستان دینے کے لیے ایمانداری سے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ قائد کا پاکستان اپنے اصل مقاصد حاصل کر سکے۔