World
غزہ میں جاری تباہی اور مغربی کنارے کی تشویشناک صورتحال
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود عمارتوں کی تباہی کی شرح میں مزید دس فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود جاری رہنے والی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں کی شرح میں تقریباً دس فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، غزہ کے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا عمل بدستور جاری ہے، جس سے انسانی بحران میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں عمارتوں کا ملبہ بننا انسانی زندگیوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، اور بین الاقوامی تنظیمیں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب، مغربی کنارے کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس کے دوران پاکستان کے نمائندے نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں صورتحال ایک ایسے 'اہم موڑ' پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کے راستے محدود ہو رہے ہیں۔ روس نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ خطہ ایک خطرناک نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں غیر قانونی آباد کاروں کا تشدد اور فوجی کارروائیاں امن عمل کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہیں۔
عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے مختلف رکن ممالک کے نمائندگان، بشمول ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لیسن، نے مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنے بیانات میں کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاروں کے تشدد اور جاری کشیدگی نے خطے میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ حالانکہ واشنگٹن اور یروشلم کی جانب سے اقوام متحدہ کے ان دعووں کو مسترد کرنے یا ان پر سوال اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن زمینی حقائق اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ مقامی آبادی سخت مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا اور جنگ بندی کے معاہدوں کی پاسداری کو یقینی نہ بنایا، تو مشرق وسطیٰ میں انسانی المیہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ غزہ میں عمارتوں کی بڑھتی ہوئی تباہی اور مغربی کنارے میں جاری کشیدگی عالمی برادری کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ٹھوس سفارتی کوششوں اور فوری عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔