LIVE
Loading Breaking News...

ویسٹ جیٹ ایئر لائن کا جنسی ہراسانی کیس میں بڑا تصفیہ

News Image
کینیڈین ایئر لائن ویسٹ جیٹ نے اپنے فلائٹ اٹینڈنٹ کی جانب سے دائر کردہ جنسی ہراسانی کے کلاس ایکشن مقدمے میں لاکھوں ڈالر کا تصفیہ طے کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ برٹش کولمبیا کی عدالت کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے جس سے متاثرین کو انصاف ملنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
کینیڈا کی معروف ایئر لائن 'ویسٹ جیٹ' نے اپنے فلائٹ اٹینڈنٹس کی جانب سے دائر کیے گئے جنسی ہراسانی کے ایک بڑے کلاس ایکشن مقدمے کو نمٹانے کے لیے بھاری رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس تصفیے کی مالیت تقریباً 4.5 ملین کینیڈین ڈالر (جو کہ امریکی کرنسی میں تقریباً 3.2 ملین ڈالر بنتی ہے) مقرر کی گئی ہے۔ یہ قانونی پیش رفت برٹش کولمبیا کی عدالت کی جانب سے منظوری کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے کمپنی اور متاثرہ ملازمین کے درمیان اس طویل عرصے سے جاری تنازع کو ختم کرنے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ سالوں سے جاری تھا جس میں ایئر لائن کے فلائٹ اٹینڈنٹس نے کام کی جگہ پر غیر محفوظ ماحول اور جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ قانونی دستاویزات کے مطابق، یہ تصفیہ ان تمام افراد کے لیے ہے جنہوں نے اس دوران ایئر لائن کے اندر ہراسانی کا سامنا کیا یا جنہیں ان حالات کی وجہ سے شدید ذہنی کوفت کا شکار ہونا پڑا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تصفیے کارپوریٹ اداروں کے لیے ایک سخت انتباہ ہیں کہ وہ اپنے ملازمین کی حفاظت اور کام کی جگہ پر وقار کو یقینی بنانے میں ناکامی کے مرتکب نہیں ہو سکتے۔ ویسٹ جیٹ کی انتظامیہ نے تصفیے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ کمپنی اب اپنے ورک کلچر کو بہتر بنانے اور ملازمین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم، متاثرہ افراد کے وکلاء نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تصفیہ متاثرین کو ایک حد تک انصاف اور مالی تلافی فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس واقعے نے ایوی ایشن انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین کے حقوق اور ملازمت کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ عدالتی منظوری کے بعد اب یہ عمل شروع ہو جائے گا کہ کس طرح متاثرین میں اس رقم کی تقسیم کی جائے گی۔ یہ معاملہ جہاں ایک طرف ویسٹ جیٹ کے لیے مالی نقصان کا باعث بنا ہے، وہیں دوسری طرف اس نے ایئر لائن انڈسٹری میں صنفی امتیاز اور ہراسانی کے تدارک کے لیے سخت پالیسیوں کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں گی جو ملازمین کو ایسی صورتحال سے بچانے کے لیے ڈھال ثابت ہوں۔