LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ: آئس کریم وین کی موسیقی پر پابندی، فروش پریشان

News Image
برطانیہ میں ایک آئس کریم فروش کو اپنی وین کا مشہور موسیقی والا ہارن بجانے پر قانونی شکایات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ کی جانب سے پابندی کے بعد اب اس نے متبادل کے طور پر گاڑی کا عام ہارن بجانے کا اعلان کیا ہے۔
برطانیہ سے ایک دلچسپ اور غیر معمولی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک آئس کریم فروش کو اپنی وین سے نشر ہونے والی روایتی موسیقی کی وجہ سے مقامی انتظامیہ اور پڑوسیوں کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ مارک ایڈورڈز نامی یہ آئس کریم فروش کئی سالوں سے اپنے علاقے میں بچوں کو آئس کریم فروخت کر رہا تھا، تاہم حال ہی میں اسے شور کی آلودگی کے حوالے سے شکایات موصول ہوئیں جس کے بعد حکام نے اسے اپنی موسیقی بند کرنے کا حکم دے دیا۔ اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے مارک ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کے فروغ اور بچوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے دہائیوں سے مخصوص موسیقی کا استعمال کر رہے تھے، لیکن اب اسے قانونی طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پڑوسیوں کی جانب سے بار بار ملنے والی شکایات کے بعد انہیں مجبوراً اپنا میوزک سسٹم بند کرنا پڑا ہے، جس سے نہ صرف ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ وہ اپنے گاہکوں کو اپنی آمد کی اطلاع دینے سے بھی قاصر ہیں۔ صورتحال کا حل نکالتے ہوئے مارک ایڈورڈز نے اب ایک نیا طریقہ اپنایا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ موسیقی بجانے کی اجازت نہ ہونے کے باعث اب وہ شام کے وقت اپنی وین کا عام ہارن بجائیں گے تاکہ گاہکوں کو ان کی موجودگی کا علم ہو سکے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ یہ پابندیاں ان کے کام میں رکاوٹ نہیں بنیں گی اور وہ آئندہ بھی اسی طرح اپنی خدمات فراہم کرتے رہیں گے۔ یہ واقعہ برطانیہ میں 'شور کی آلودگی' (Noise Pollution) کے قوانین کی سختی کو ظاہر کرتا ہے۔ مقامی کونسلز اکثر رہائشی علاقوں میں اس طرح کی آوازوں پر پابندی عائد کر دیتی ہیں تاکہ شہریوں کو سکون فراہم کیا جا سکے۔ تاہم، اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک بحث چھیڑ دی ہے جس میں کچھ لوگ موسیقی کو آئس کریم وین کی پہچان قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ پڑوسیوں کے سکون کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ فی الحال یہ معاملہ علاقے بھر میں دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے اور مارک ایڈورڈز اپنے نئے طریقے کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔