World
مغربی کنارے میں مسیحی قصبے طیبہ پر آبادکاروں کے حملے
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع تاریخی مسیحی قصبے طیبہ کو یہودی آبادکاروں کے منظم اور وحشیانہ حملوں کا سامنا ہے۔ مقامی آبادی شدید خوف و ہراس اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع تاریخی قصبہ طیبہ، جو اپنی منفرد ثقافتی اور مذہبی حیثیت کی وجہ سے مشہور ہے، آج کل یہودی آبادکاروں کے منظم حملوں اور دھمکیوں کی زد میں ہے۔ طیبہ فلسطین کا وہ واحد قصبہ ہے جہاں کی اکثریت مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں یہاں کے مکینوں کو جس سنگین صورتحال کا سامنا ہے، اس نے مقامی آبادی کے مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ آبادکاروں کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہیں جس کا مقصد مقامی مسیحی آبادی کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنا ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی رہائشیوں کے مطابق، آباد کاروں کے گروپوں نے منظم انداز میں طیبہ کی حدود میں داخل ہو کر املاک کو نقصان پہنچایا اور مقامی باشندوں کو ہراساں کیا۔ یہ حملے صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ ان کا مقصد مقامی لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی زمینیں اور گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ طیبہ کے مکین، جو صدیوں سے وہاں پرامن طریقے سے آباد ہیں، اب شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی برادری میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ طیبہ کو فلسطین میں مسیحی برادری کے ثقافتی ورثے اور بقائے باہمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے فلسطینیوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور طیبہ کے نہتے مسیحی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ قصبے کی سڑکوں پر اب ویرانی کا راج ہے اور لوگ رات کے وقت اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت نے فلسطینی مسیحیوں کے وجود کو ایک ایسے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے جس کا حل فوری بین الاقوامی مداخلت کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔