World
عمان سمندر میں تیل کا اخراج، صفائی کے اقدامات شروع
عمان کی ساحلی حدود میں تیل لیکیج کا شکار ٹینکر سے صفائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے جس کا مقصد ممکنہ ماحولیاتی تباہی کو روکنا ہے۔ گرین پیس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ تیرا سو مربع کلومیٹر تک وسیع ہو چکا ہے۔
عمان کی ساحلی حدود میں تیل لیکیج کا شکار ہونے والے آئل ٹینکر سے صفائی کا ہنگامی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر کام کرنے والی ماحولیاتی تنظیم 'گرین پیس' نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ ٹینکر سے خارج ہونے والے تیل کا پھیلاؤ انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اب یہ تقریباً 1300 مربع کلومیٹر کے رقبے تک پہنچ چکا ہے۔ اس وسیع پیمانے پر پھیلنے والے تیل نے خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے آبی حیات کی بقا کے لیے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو یہ ساحلی علاقوں کے لیے ایک بڑی ماحولیاتی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ریسکیو اور صفائی کرنے والی فرمز کا کہنا ہے کہ وہ ٹینکر سے مزید تیل کے اخراج کو روکنے کے لیے جدید تکنیکوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ علاقے میں موجود خراب موسمی حالات اور سمندر کی لہریں امدادی کارروائیوں میں حائل ہو رہی ہیں، تاہم عملہ پوری تندہی سے کام میں مصروف ہے۔ مقامی حکام بھی سمندری آلودگی کو ساحل تک پہنچنے سے روکنے کے لیے حفاظتی رکاوٹیں کھڑی کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ سیاحتی مقامات اور ماہی گیروں کی بستیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ صورتحال عمان کی سمندری حدود میں سیکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔
گرین پیس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تیل کے اس پھیلاؤ سے سمندری پرندوں، مچھلیوں اور دیگر نایاب آبی جانداروں کی افزائش گاہیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ عمان کی مدد کے لیے تکنیکی اور مالی وسائل فراہم کرے تاکہ تیل کو سمندر کی تہہ میں جانے یا ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی جمع کیا جا سکے۔ متعلقہ حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور متاثرہ علاقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ عوام کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ساحلی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔