LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے نئے ٹیرف، برازیل کا جوابی اقدامات پر غور

News Image
امریکہ کی جانب سے عائد کردہ نئے ٹیرف کے بعد برازیل نے جوابی لائحہ عمل پر غور شروع کر دیا ہے۔ تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن حکومت نے اپنے معاشی مفادات کا دفاع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
برازیل کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے حالیہ تجارتی ٹیرف کے نفاذ کے بعد ممکنہ جوابی اقدامات پر غوروخوض کا آغاز کر دیا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کے امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ برازیل اس معاملے پر خاموش بیٹھنے کے بجائے اپنے معاشی دفاع کے لیے تمام آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ برازیل نے ابھی تک باضابطہ طور پر کسی بھی جوابی کارروائی یا پابندی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم، ملک کی وزارتِ تجارت اور دیگر متعلقہ ادارے اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ملکی صنعتوں اور برآمدات پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے اور امریکہ کے ساتھ منصفانہ بنیادوں پر بات چیت کی راہ نکالی جا سکے۔ برازیلین حکام نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عالمی تجارتی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا ہر صورت تحفظ کریں گے۔ ملک کے تجارتی حلقوں میں بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کا سفارتی اور اقتصادی سطح پر مناسب جواب دیا جائے تاکہ برازیل کی معیشت کو کسی بھی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اس تجارتی تنازع کے حوالے سے مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے ٹیرف کے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت یعنی برازیل کی طرف سے جوابی اقدامات عالمی منڈی اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔