World
مالی میں 82 فوجی بازیاب: مسلح گروہوں کی قید سے رہائی
مالی کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شمالی علاقے میں شدت پسندوں کی قید میں رہنے والے 82 فوجیوں کو رہا کروا لیا گیا ہے۔ یہ فوجی طوارق اور القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند گروپوں کی تحویل میں تھے۔
مالی کی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں طویل عرصے سے مسلح گروہوں کی قید میں موجود 82 فوجیوں کو بازیاب کر لیا گیا ہے۔ یہ فوجی طوارق باغیوں اور القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند تنظیموں کی تحویل میں تھے، جنہیں ایک طویل جدوجہد اور حکمت عملی کے بعد آزاد کرایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی رہائی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری اور حکومتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ شمالی مالی کا خطرہ ایک طویل عرصے سے مسلح تنازعات کا مرکز رہا ہے جہاں مختلف باغی گروپ اور دہشت گرد تنظیمیں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان فوجیوں کی بازیابی کو ملکی فوج کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ طویل عرصے سے نامعلوم مقامات پر قید تھے۔ فوجی ترجمان کے مطابق، تمام بازیاب ہونے والے اہلکاروں کو ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں جلد از جلد ان کے خاندانوں سے ملایا جا سکے۔ اس رہائی کے عمل کے حوالے سے مزید تفصیلات فی الحال صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رہائی مذاکرات اور محدود آپریشنز کا مجموعہ تھی۔ مالی میں جاری سیکیورٹی بحران کے باعث حکومت کو مسلسل چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ شمالی علاقوں میں القاعدہ سے جڑے گروپوں کی موجودگی نے حکومت اور بین الاقوامی امن دستوں کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ فوج کی جانب سے جاری اس بیان کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دیگر لاپتہ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے بھی اسی طرح کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ حکومتی حلقوں نے ان فوجیوں کی محفوظ واپسی پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور انہیں قومی ہیروز قرار دیتے ہوئے ان کی ہمت کو سراہا ہے۔ اس پیش رفت سے مقامی سطح پر سیکیورٹی فورسز کے مورال میں بہتری آنے کی توقع ہے، جبکہ حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے ہر انچ سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔